.

ایران کے میزائل حملوں کا عراق میں نشانہ بننے والے امریکی فوجی اڈے کون سے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی پاسداران انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ اس نے عراق میں انبار کے عین الاسد اور اربیل کے حریر فوجی اڈوں کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ دونوں اڈوں میں امریکی فوج موجود ہے۔ ذیل میں ہم ان دونوں اڈوں کا تعارف پیش کر رہے ہیں جن کو ایران نے نشانہ بنایا ہے۔

عین الاسد کا اڈہ

عین الاسد کا فوجی اڈہ (اس کا سابقہ نام القادسیہ تھا) عراق میں "بلد" کے فضائی اڈے کے بعد ملک کا دوسرا سب سے بڑا فضائی اڈہ ہے۔ انبار صوبے میں البغدادیہ کے سب ڈسٹرکٹ سے 10 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع یہ اڈہ امریکی فوج کے سیونتھ آرمی ڈویژن کا ہیڈکوارٹر بھی ہے۔

عین الاسد اڈے کی تعمیر 1980 میں شروع ہوئی تھی اور اسے 7 برس میں مکمل کر لیا گیا۔ یہ اڈہ 5 ہزار سے زیادہ فوجی اہل کاروں کے قیام کی گنجائش رکھتا ہے۔ یہاں دیگر خدمات اور سہولیات بھی فراہم کی گئی ہیں۔ ان میں بنکر، اسلحہ ڈپو، بیرکس اور فوجی طیاروں کے علاوہ سوئمنگ پولز، فٹبال گراؤنڈز، مسجد، ہائی اسکولز، لائبریری، سینیما ہاؤس، ہسپتال اور کلینک شامل ہیں۔

خلیج کی جنگ کے دوران عراق کے دیگر فضائی اڈوں کی طرح عین الاسد کے اڈے کو بھی گائیڈڈ لیزر بموں کے ذریعے شدید فضائی حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ آج بدھ کو علی الصبح ایرانی پاسداران انقلاب نے مذکورہ اڈے پر میزائل حملہ کیا۔ یہ کارروائی جنرل قاسم سلیمانی کو نشانہ بنانے کے جواب میں کی گئی ہے۔ سلیمانی جمعے کی صبح بغداد میں ایک حملے میں مارا گیا تھا۔

امریکی افواج نے 2003 میں "عين الاسد" پر قبضہ کرنے کے بعد اسے فضائی اڈے کے طور پر استعمال کیا۔ اس کے علاوہ یہ اڈہ عراق میں امریکی فوج کی موجودگی کے پورے عرصے کے دوران فورسز اور ترسیلات کی منتقلی کے لیے مرکزی صدر مقام رہا۔ یہاں تک کہ دسمبر 2011 میں اسے حتمی طور پر عراقی فورسز کے حوالے کر دیا گیا۔ سال 2014 کے اواخر سے یہاں امریکی فوج کے 300 سے زیادہ اہل کار موجود ہوتے ہیں۔ ان عسکری اہل کاروں کی موجودگی کا مقصد "داعش" تنظیم کے خلاف لڑنے کے لیے عراقی فوج کو خصوصی تربیت فراہم کرنا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دسمبر 2018 میں اپنی اہلیہ کے ساتھ عین الاسد اڈے کا دورہ کیا تھا۔ اس دوران انہوں نے امریکی فوجیوں کے ساتھ کرسمس کی تقریب میں حصہ لیا۔

الحریر کا اڈہ

یہ ایک جدید امریکی فوجی اڈہ ہے جو دفاعی میزائلوں، لڑاکا طیاروں اور جدید ترین ریڈؑار سسٹم سے لیس ہے۔ حریر کا اڈہ عراق کے صوبے اربیل میں شقلاوہ ضلع میں واقع ہے۔ اربیل شہر سے اس کی دوری 75 کلو میٹر ہے۔

حریر کا اڈہ ایرانی سرحد کے نزدیک ترین واقع امریکی فوجی اڈہ ہے۔ اس اڈے کا استعمال 2015 سے شروع ہوا اور یہ ایران کی سرحد سے 115 کلومیٹر کی دوری پر ہے۔

ذرائع کا اپنے طور پر کہنا ہے کہ ایک عسکری سمجھوتے کے تحت سنجار کے علاقے کے نزدیک امریکا کے 5 فوجی اڈے بنائے جائیں گے۔

ان میں سنجار کے علاوہ سلیمانیہ صوبے میں حلبجہ اور کرکوک صوبے میں التون کبری کے اڈوں کے ساتھ اتروش اور حریر کے ہوائی اڈے کے علاقے شامل ہیں۔