.

سپاہ پاسداران انقلاب نے عراق میں دو امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملہ کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی سپاہِ پاسداران انقلاب نے عراق میں دو امریکی فوجی اڈوں پر حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔ پاسداران نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب بتایا کہ ان کی حامی ملیشیا نے عراق کی مغربی گورنری الانبار میں عین الاسد فوجی اڈے اور شمالی عراق میں اربیل میں فوجی اڈوں پر حملہ کیا ہے۔ ان دونوں فوجی اڈوں پر امریکی فوج کی بڑی تعداد موجود ہے۔

ادھر 'العربیہ' اور الحدث کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ امریکی افوج نے حملے کے مقام پر فوری جوابی کارروائی کی اور میزائل داغنے والی گاڑی کونشانہ بنایا گیا ہے۔

ایرانی پاسداران انقلاب سے منسوب ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس نے گذشتہ جمعہ کو بغداد میں امریکی کارروائی میں قاسم سلیمانی کے قتل کا بدلہ لیتے ہوئے عین الاسد اڈے اور اربیل میں امریکی ایئربیس میزائل حملوں سے نشانہ بنایا ہے۔

اس حملے کے بعد ایران نے مزید "تباہ کن رد عمل" کی دھمکی دی تھی۔ واشنگٹن نے عین الاسد اڈے پر بمباری میں امریکا کے متعدد طیارے تباہ کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ امریکا نے بھی جوابی کارروائی کی وارننگ دی ہے۔

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان کے ایک سینیر عہدیدار نے کہا کہ عراق میں عین الاسد اڈے پر میزائل نے حملے کیے گئے ہیں تاہم اس حملے میں ہونے والے جانی نقصان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملی۔

امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان جوناتھن ہافمین نے مزید کہا کہ حملے کے نتیجے میں کسی قسم کے نقصان یا زخمی ہونے کے بارے میں ابھی تک کوئی اطلاع نہیں ہے، لیکن انہوں نے زور دے کر کہا کہ عین لاسد اڈے پر امریکی فوجی ونگ کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

انہوں نے تصدیق کی کہ میزائل حملوں میں شمالی عراق میں اربیل میں بھی ایک فوجی اڈے کو نشانہ بنایا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ بیلسٹک میزائل ایران کے اندر سے عراق میں امریکی فوجی تنصیبات پر فائر کیے گئے تھے جبکہ ایک کرد ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ میزائلوں کا منبع ایران میں کرمانشاہ تھا۔

دوسری جانب یہ اطلاع ملی ہے کہ مغربی عراق میں عین الاسد بیس کی فضاء میں امریکی ہیلی کاپٹر کی پروازوں کے ساتھ خطرے کے سائرن کی آوازیں سنائی گئی ہیں۔

ایران کی جانب سے عراق میں امریکی فوج کو نشانہ بنائے جانے کے بعد وائٹ ہائوس نے کہا ہے کہ امریکا عراق میں ایرانی حملے آگاہ ہے۔

وائٹ ہائوس کا کہنا ہے کہ الانبار میں ہونے والے ایرانی حملے کے بارے میں صدر ٹرمپ کو آگاہ کیا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ قومی سلامتی کی ٹیم سے جوابی کارروائی کے لیے صلاح مشورہ کر رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر کیے گئے میزائل حملوں سے ہونے والے نقصان کاجائزہ لیا جا رہا ہے۔