.

مشرق وسطی میں امریکی مفادات خطرے میں ہیں: حسن روحانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے صدر حسن روحانی نے منگل کے روز اپنے فرانسیسی ہم منصب عمانوئل ماکروں کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کی۔ اس موقع پر روحانی نے ماکروں کو آگاہ کیا کہ ایرانی پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے سربراہ کی ہلاکت کے بعد مشرق وسطی میں امریکی مفادات "خطرے میں" پڑ گئے ہیں۔ سلیمانی جمعے کو علی الصبح بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے نزدیک امریکی حملے میں مارا گیا تھا۔

ایرانی ایوان صدارت کے مطابق صدر روحانی نے ٹیلیفونک رابطے میں کہا کہ "امریکا کو یہ جان لینا ہو گا کہ خطے میں اس کے مفادات اور امن خطرے میں ہے، وہ اس بڑے جرم کے دور رس نتائج سے محفوظ نہیں رہ سکتا"۔

دوسری جانب عمانوئل ماکروں نے ایران پر زور دیا کہ وہ ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کرے جس کا نتیجہ خطے میں حالیہ جارحیت میں اضافے کی صورت میں سامنے آئے۔ اسی طرح فرانس کے صدر نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ جلد از جلد اُس جوہری معاہدے کی مکمل پاسداری کی جانب واپس لوٹے جو 2015 میں عالمی قوتوں کے ساتھ طے پایا تھا۔

قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی اور تناؤ میں اضافہ ہو گیا۔ کئی ایرانی ذمے داران بالخصوص پاسداران انقلاب کے عہدے داران نے امریکا کو جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔

دھمکیوں کا تبادلہ

مذکورہ دھمکیوں کے تبادلے میں آخری بیان ایرانی صدر حسن روحانی کی جانب سے سامنے آیا۔ پیر کے روز روحانی نے ٹویٹر پر کہا کہ "جو لوگ 52 نمبر کا حوالہ دیتے ہیں انہیں 290 کے عدد کو یاد رکھنا چاہیے (روحانی کا اشارہ اُس مسافر بردار ایرانی ہوائی جہاز کی طرف تھا جسے امریکا نے 1988ء میں مار گرایا اور اس واقعے کے بعد ایران نے عراق کے ساتھ جاری آٹھ سالہ جنگ روکنے کا اعلان کیا تھا)۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو کہا تھا کہ "امریکا نے ایران میں 52 مقامات کی نشان دہی کی ہے۔ جنگ کی صورت میں ان مقامات کو سرعت اور طاقت کے ساتھ نشانہ بنایا جائے گا۔ اگر ہمارے لوگوں یا مفادات پر ایران حملہ کرتا ہے تو ایران کے باون مقامات ہمارے نشانے پر ہوں گے"۔