.

ہم خود کو تنازعات بے باق کرنے کا میدان نہیں بننے دیں گے: عراقی کردستان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں کردستان ریجن کے صدر، وزیراعظم اور پارلیمںٹ کے اسپیکر کے درمیان ملاقات میں عراق اور کردستان کے مختلف علاقوں میں ایرانی میزائل حملوں کا معاملہ زیر بحث آیا۔

بدھ کے روز ہونے والی اس ملاقات کے بعد جاری بیان میں تینوں شخصیات کی جانب سے یہ باور کرایا گیا کہ کردستان ریجن تنازعات کا میدان نہیں بننے دیا جائے گا۔ بیان میں زور دیا گیا کہ بات چیت کے ذریعے ہنگامی حالات پر فوری قابو پایا جائے۔

ملاقات کے دوران کردستان کے صدر، وزیراعظم اور پارلیمنٹ کے اسپیکر تینوں نے عراق میں فوجی اڈوں پر موجود امریکا کے زیر قیادت فورسز پر ایران کی جانب سے میزائل حملوں کے کے بعد کشیدگی میں اضافے پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔

کردستان کے سربراہان نے ایک بیان میں کہا کہ کردستان ریجن صورت حال کے تناؤ میں کمی کو سپورٹ کرتا ہے اور بات چیت کے ذریعے مسائل کے سفارتی حل کے لیے کوشاں ہے۔ ساتھ ہی تمام فریقوں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ کردستان ریجن کو تنازعات کے درمیان گھسیٹ کر نہ لائیں۔

یاد رہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب نے بدھ کو علی الصبح اعلان کیا کہ اس نے عراق کے صوبے انبار میں عین الاسد اور اربیل میں حریر کے فوجی اڈوں کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ ان دونوں اڈوں پر امریکی فوجی موجود ہوتے ہیں۔

ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق پاسداران کا کہنا ہے کہ عراق میں امریکی اہداف پر ایرانی حملوں کے جواب میں امریکا کے کسی بھی اقدام کا نیا رد عمل سامنے آئے گا۔

ایرانی نیوز ایجنسی "تسنيم" کے مطابق اربیل میں فوجی اڈے کو نشانہ بنائے جانے کی کارروائی میں عراق کی الحشد الشعبی ملیشیا نے بھی شرکت کی۔

ادھر العربیہ اور الحدث کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ امریکی افواج نے جوابی کارروائی میں ایرانی میزائلوں کو داغے جانے میں استعمال ہونے والی ایک گاڑی کو نشانہ بنایا۔

واشنگٹن میں "العربيہ" اور "الحدث" نیوز چینلوں کے نمائندے کے مطابق یہ رپورٹیں سامنے آئی ہیں کہ ایران سے 6 سے زیادہ میزائل داغے گئے۔ ان میں 6 میزائل اہداف کو لگے جب کہ 4 اپنے اہداف سے دور گرے۔ ادھر عراقی فوج نے اعلان کیا ہے کہ عراق میں ایران کے حملے کے دوران 22 میزائل گرے تاہم عراقی فوج کی صفوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

ایرانی پاسداران انقلاب نے ایک بیان میں امریکی فوج سے انخلاء کا مطالبہ کیا ہے تا کہ مزید امریکی فوجی اہل کاروں کو اپنی جانوں سے ہاتھ نہ دھونا پڑے۔