.

’’ایران کے 22میزائلوں کے حملے میں عراقی فوج کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی فوج نے کہا ہے کہ مغربی صوبہ الانبار میں واقع عین الاسد ائیر بیس اور عراقی کردستان کے دارالحکومت اربیل میں ایک فوجی اڈے پر کل بائیس میزائل داغے گئے ہیں۔ان دونوں فوجی اڈوں پر امریکا کی قیادت میں اتحاد کے فوجی تعینات ہیں مگر اس میزائل حملے میں عراقی فوج کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

فوج نے بدھ کو ایک بیان میں بتایا ہے کہ عین الاسد ائیر بیس پر سترہ میزائل داغے گئے تھے۔ان میں سے دو پھٹ نہیں سکے تھے۔اربیل میں امریکا کی قیادت میں اتحادی فوج کے ہیڈ کوارٹرز پر پانچ میزائل داغے گئے تھے۔

عراقی فوج نے ایران کے اس میزائل حملے کی تفصیل جاری کی ہے لیکن حملہ آور ملک ایران کا نام نہیں لیا ہے اور فعل مجہول میں یہ بیان جاری کیا ہے:

’’عراق کو 8 جنوری 2020ء کو علی الصباح پونے دو بجے (1:45)سے پونے تین بجے (2:45) کے درمیان 22 میزائلوں کی بمباری کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ان میں 17 میزائل عین الاسد ائیربیس پر گرے تھے۔ ان میں سے دو پھٹ نہیں سکے تھے۔پانچ اربیل شہر میں اتحادی فوج کے ہیڈ کوارٹرز پر گرے ہیں۔عراقی فورسز کا ان میزائلوں سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔‘‘

دوسری جانب ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ عراق میں امریکی اہداف پر میزائل حملے میں کم سے کم 80 ’’امریکی دہشت گرد‘‘ (فوجی) مارے گئے ہیں۔اس نے کہا ہے کہ ایران نے 15 میزائل داغے تھے اور ان میں سے کسی بھی میزائل کو روکا یا ناکارہ نہیں بنایا گیا ہے۔