ایران نے امریکی فوج کو دانستہ طورپر نقصان پہنچانے سے گریز کیا: ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مغربی ذرائع ابلاغ اور سفارتی ذرائع نےبتایا ہے کہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر ایرانی میزائل حملوں میں ایران نے دانستہ طورپر امریکی فوج کو نقصان پہنچانے گریز کیا ہے۔

خیال رہے کہ منگل کی شب ایران کی طرف سے عراق میں دو امریکی فوجی اڈوں پر ایک درجن سے زاید میزائل برسائے گئے تھے۔ ایران کی طرف سے گذشتہ جمعہ کو عراق میں امریکی حملے میں مارے جانے والے پاسداران انقلاب کے جنرل قاسم سلیمانی اور دیگر کمانڈروں کی ہلاکت پر جوابی کارروائی قرار دی جا رہی ہے۔

مغربی انٹیلی ذرائع،امریکی اور یورپی سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران نے گذشتہ روز امریکی فوجی اڈوں پر کیے گئے حملوں میں امریکی فوج کو کم سے کم جانی نقصان پہنچانے کی پالیسی اپنائی تھی۔

ایک ذریعے نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بدھ کے روز ایرانیوں نے جان بوجھ کر امریکی افواج پر حملہ کیا تاکہ ایران کے عزم کے پیغام کے ساتھ اس بحران کو بے قابو ہونے سے روکا جا سکے۔

واشنگٹن کے ایک ذرائع نے بتایا کہ ابتدائی اشارے سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکی فوج کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے جبکہ دیگر امریکی عہدیداروں نے اس پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔

منگل کے روز ایرانی پاسداران انقلاب نے اعلان کیا تھا کہ اس نے مغربی عراق کے صوبہ الانبار میں عین الاسد اڈے اور اربیل میں ایک اور اڈے پر میزائل حملہ کیا ہے۔ان دونوں اڈوں پر امریکی فوج متمرکز ہے۔

عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملوں کے بعد پاسداران انقلاب نے امریکا کو وارننگ دی کہ اگر اس نے مزید کوئی کارروائی کی تو تہران کی طرف سے نیا رد عمل سامنے آئے گا۔

ایران کی 'تسنیم' نیوز ایجنسی کے مطابق عراق میں امریکی فوجی اڈوں پرحملوں میں الحشد ملیشیا بھی شامل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں