.

بغداد : امریکی سفارت خانے پر داغے گئے راکٹ ہدف سے دور جا گرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں "العربیہ" اور "الحدث" نیوز چینلوں کے ذرائع نے بتایا ہے کہ دارالحکومت بغداد میں امریکی سفارت خانے کو راکٹوں کے ذریعے نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ ذرائع کے مطابق یہ راکٹوں کا نشانہ خطا ہو گیا اور یہ سفارت خانے کے بجائے عراقی کابینہ کے جنرل سیکرٹریٹ کی تعمیرات پر گرے۔

بعد ازاں عراقی فوج نے اعلان کیا کہ دو کیٹوشیا راکٹس بغداد میں گرین زون میں گرے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ الحدث اور العربیہ نیوز چینلوں کے مطابق عراقی دارالحکومت کی فضاؤں میں امریکی طیاروں کی پراوزوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔

ایرانی پاسداران انقلاب نے گذشتہ روز اعلان کیا تھا کہ اس نے عراق کے صوبے انبار اور اربیل میں دو فوجی اڈوں پر میزائل حملے کیے۔ ان دونوں اڈوں پر امریکی فوجی موجود ہوتے ہیں۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا کہ ایسا نظر آتا ہے کہ عراق میں دو فوجی اڈوں پر میزائل حملوں کے بعد ایران اپنے موقف کی شدت میں کمی لا رہا ہے۔ دونوں حملوں میں مذکورہ اڈوں پر موجود امریکی یا عراقی فوجیوں کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

وائٹ ہاؤس میں خطاب کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ ہمارے تمام فوجی خیریت سے ہیں اور ہمارے فوجی اڈوں کو معمولی نقصان پہنچا۔

امریکی وزارت دفاع پینٹاگان کے ترجمان جوناتھن ہوفمین نے ایک بیان میں بتایا کہ عراق میں امریکی عسکری تنصیبات پر حملوں کے لیے بیلسٹک میزائل ایران کے اندر سے داغے گئے۔ ادھر ایک کرد ذریعے کے مطابق یہ میزائل ایران میں کرمانشاہ سے داغے گئے۔ جوناتھن کا کہنا ہے کہ ان کا ملک خطے میں اپنی افواج ، شراکت داروں اور حلیفوں کی حفاظت کے لیے تمام حفاظتی اقدامات کرے گا۔