.

سعودی عرب نے ایران کا تازہ سائبر حملہ ناکام بنا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہےکہ سعودی سائبر سیکیورٹی سروس نے ایرانی ہیکروں کی طرف سے کیا گیا ایک تازہ سائبرحملہ نام بنا دیا ہے۔

'یاھو' نیوز ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق سعودی حکام نے ایران کی طرف سے 29 دسمبر 2019ء کو کیا گیا ایک سائبرحملہ ناکام بنایا ہے۔ اسی تاریخ کو امریکی فوج نے عراق میں ایرانی وفادار گروپوں اور اس کے ایجنٹوں کے مراکز پر بم باری کی تھی۔ یہ بمباری بغداد کےقریب ہوائی اڈے پر راکٹ باری کے نتیجے میں ایک امریکی کنٹریکٹر کی ہلاکت کے رد عمل میں کی گئی تھی۔

یاھو نے اپنی رپورٹ میں مزید کہا ہے کہ سعودی حکام جنہوں نے ' Dustman' نامی سافٹ ویئر لانچ کیے ہیں کا کہنا ہے کہ سعودی اداروں پرسائبرحملے براہ راست ایران سے نہیں کیے گئے تاہم ان کےپیچھے ایران کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔ اس حوالے سے سعودی تکنیکی ماہرین نے ان حملوں کے منبع کا جائزہ لیا اور وہ اس نتیجے تک پہنچے ہیں ان حملوں کے پیچھے ایران کا ہاتھ تھا تاہم سائبر سیکیورٹی سروس نے ایرانی سائبر حملے بری طرح ناکام بنا دیے۔

سعودی عرب کے کمپیوٹر ڈیٹا کو مکمل طور تباہ کرنے والے ڈیرٹی سافٹ ویئر کے بارے میں سعودی عرب کے سائبر سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملے مشرق وسطیٰ نامعلوم اہداف سے کیے گئے۔

اگرچہ Dustman جیسے سافٹ ویئر جیسے تخریبی سائبرحملےکےچار دن بعد دو جنوری کو امریکا نے ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کو بغداد میں ایک فضائی حملے میں ہلاک کیا مگر سلیمانی کی ہلاکت سے کئی روزپیشتر سعودی عرب کو سائبرحملوں کا نشانہ بنانے کی ناکام کوشش کی گئی تھی۔

سعودی عرب کا کہنا ہے کہ سائبر دہشت گردی ایران کا مشغلہ بن چکا ہےاور ایران اپنے مذموم عزائم کوآگے بڑھانے کے لیے سائبر میدان کو استعمال کررہا ہے۔

کمانڈر قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد امریکی داخلی سیکیورٹی کے ادارے کی طرف سے خبردار کیا گیا تھا کہ اس کارروائی کے بعد ایران کی طرف سے سائبرحملوں میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس اپنے عزائم کو آگے بڑھانے اور دہشت گردی کے فروغ کے لیے سائبر کا میدان کھلا ہے اور وہ کسی بھی ملک کے کمپیوٹر ڈیٹا پر حملہ آور ہوسکتا ہے۔

واضح رہے کہ ' Dustman' جیسے سافٹ ویئر کے ذریعے سائبر حملوں سے ماضی میں بھی سعودی عرب کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔ ایران اس طرح کے حملوں کے لیے مشرق وسطیٰ کو استعمال کرتا ہے۔ یہ حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ ایران خطے کے ممالک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے دیگر ذرائع کے استعمال کے ساتھ سائبر حملوں جیسے جرائم کا بھی بھرپور طریقے سے استعمال کررہا ہے۔ اس مقصدکے لیے ایران خطے میں موجود اپنے ایجنٹوں کو استعمال کرتا ہے۔