.

عراق کے استحکام کی ذمہ داری غیروں نہیں اپنوں کو اٹھانا ہو گی: السیستانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے سرکردہ شیعہ مذہبی رہ نما آیت اللہ علی السیستانی نے کہا ہے کہ عراق کے استحکام کی ذمہ داری یہاں کے باشندوں کو اپنے کندھوں پر اٹھانا ہو گی۔ غیر ملکیوں کا عراق کے استحکام میں کوئی عمل دخل نہیں ہونا چاہیے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق آیت اللہ علی السیستانی کے نائب عبدالمہدی کربلائی نے کربلا شہرکی جامع مسجد میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آیت اللہ السیستانی عراق میں غیر ملکی مداخلت کے خلاف ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عراق میں اجنبیوں کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے بلکہ ملک کے استحکام اور ترقی کی ذمہ داری اس کے اصل باشندوں کو اٹھانا ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عراق کی خود مختاری کی خلاف ورزی ہماری مقتدرہ کی کم زوری کی عکاسی کرتی ہے۔

آیت اللہ علی السیستانی کا کہنا تھا کہ عراق کی خود مختاری کی خلاف ورزیاں اور ملک میں جاری بحران کے حل میں ناکامی ہماری حکومت کی ناکامی کا ثبوت ہے۔ حکومت کی نا اہلی نے دوسرے ممالک کو عراق میں مداخلت کا موقع فراہم کیا۔

انہوں نے گذشتہ ہفتے ایرانی پاسداران انقلاب کی بیرون ملک سرگرم 'قدس فورس' کے کمانڈر قاسم سلیمانی اور الحشد الشعبی ملیشیا کے نائب سربراہ ابو مہدی المہدس کی ہلاکت کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال سے دانش مندی اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے امریکی فوج کے حملے میں قاسم سلیمانی اور مہدی المہندس کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے امریکی فوج کے حملے کو' درندہ صفت کارروائی' قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عراق کی سرزمین پر امریکی حملہ عراق کی خود مختاری اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔

خیال رہے کہ تین جنوری جمعہ کی صبح امریکی فوج نے ایک فضائی حملے میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی اور عراق کی الحشد ملیشیا کے نائب سربراہ مہدی المہندس سمیت کئی جنگجوئوں کو ہلاک کردیا تھا۔