.

سلیمانی کی ہلاکت کے روز یمن میں ایرانی ذمے دار کے بھی قتل کی کوشش!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق ایرانی القدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی کو بغداد میں ہلاک کرنے کے آپریشن والے روز ہی امریکی فورسز نے یمن میں بھی ایک سینئر ایرانی فوجی اہل کار کے خلاف دوسری خفیہ کارروائی کی۔

جمعے کے روز جاری رپورٹ میں اخبار نے 4 امریکی عہدے داران کے حوالے سے بتایا ہے کہ 3 جنوری کو امریکا نے یمن میں سرگرم ایرانی القدس ملیشیا کے ایک مرکزی کمانڈر عبدالرضا شہلائی کو بھی نشانہ بنایا تاہم وہ موت سے بچ گیا۔

امریکی عہدے داران کے مطابق شہلائی کے خلاف آپریشن ابھی تک انتہائی خفیہ ہے۔ بہت سی شخصیات نے اس کے حوالے سے تفصیلات پیش کرنے سے انکار کرتے ہوئے صرف اتنا کہنے پر اکتفا کیا کہ یہ "کامیاب نہ رہا"۔

دیگر ذرائع نے بتایا ہے کہ پینٹاگان کے ذمے داران دونوں کارروائیوں کی کڑی نگرانی کر رہے تھے۔

ایک سینئر ذمے دار نے انکشاف کیا کہ دونوں کارروائیوں کے لیے ایک ہی وقت میں گرین سگنل ملا۔ امریکا نے شہلائی پر حملے کے بارے میں نہیں بتایا کیوں کہ یہ کارروائی منصوبے کے مطابق نہیں ہوئی۔ تاہم ذمے دار نے باور کرایا کہ مستقبل میں شہلائی نشانہ بن سکتا ہے۔

امریکی وزارت خارجہ نے گذشتہ ماہ یمن میں حوثی دہشت گردوں کو اسلحہ سپلائی کرنے اور دہشت گردی کے دیگر جرائم میں ملوث ایرانی پاسداران انقلاب کے سینیر کمانڈر عبدالرضا شہلائی کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر 1.5 کروڑ ڈالر انعام کا اعلان کیا تھا۔

امریکا کا دعویٰ ہے کہ شہلائی تہران اور صنعاء میں آتا جاتا ہے۔ وہ دہشت گردی کی مختلف کارروائیوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے امریکا کو مطلوب افراد کی فہرست میں شامل ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کی طرف سے ٹویٹر پر جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ایرانی عہدے دار شہلائی کے بارے میں معلومات دینے یا خطے اور یمن میں ایرانی مالیاتی نظام میں خلل پیدا کرنے پر 1.5 کروڑ ڈالر انعام دیا جائے گا۔

واشنگٹن ایرانی کمانڈر شہلائی پر سعودی عرب کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور عادل الجبیر پر 2011 میں قاتلانہ حملے کی منصوبہ بندی کا بھی الزام عائد کرتا ہے۔ الجبیر اُس وقت امریکا میں سعودی عرب کے سفیر تھے۔

امریکی ذمے داران کا کہنا ہے کہ 1957 میں پیدا ہونے والا عبدالرضا شہلائی کا عراق میں امریکی افواج پر حملوں کے ساتھ بھی تعلق رہا ہے۔ ان میں 2007 میں ایران نواز ملیشیا کے عناصر کے ہاتھوں کربلا شہر میں 5 امریکی فوجیوں کے اغوا اور قتل کی کارروائی شامل ہے۔

عبدالرضا شہلائی کون ہے ؟

ایرانی پاسداران انقلاب کی بیرون ملک کارروائیوں کی ذمے دار القدس فورس کے اس سرگرم اعلی عہدے دار سے متعلق زیادہ تصاویر یا رپورٹیں نہیں ملتی ہیں۔

القدس فورس عراق سے لے کر شام، لبنان اور یمن تک فرقہ وارانہ ملیشیاؤں کی سپورٹ کے ذریعے ایران کی علاقائی توسیع پسندی کے منصوبوں پر عمل درامد کر رہی ہے۔

سال 2014 میں ایرانی سنی تنظیم مجاہدین خلق نے اپنی ایک رپورٹ میں القدس فورس کے اُن افسران کے نام پیش کیے تھے جو شام اور عراق میں معرکہ آرائی میں مصروف رہے۔ ان میں بریگیڈیر جنرل عبدالرضا شہلائی عُرف (حاجی یوسف) کا نام بھی شامل تھا۔ وہ عراق میں حزب اللہ بریگیڈز کا کمانڈر بھی ہے۔ اس نے دو دہائیوں سے زیادہ عرصے تک القدس فورس کے سربراہ کے طور پر بھی کامکیا۔ عراق میں امریکی افواج کی موجودگی کے دوران وہ عراق میں اتحادی افواج بالخصوص امریکی فورسز کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں کا ماسٹر مائنڈ تھا۔ اس کی ذمے داریوں میں عراقی ملیشیاؤں کے لیے تربیتی پروگراموں کا انعقاد اور انہیں سپورٹ اور تربیت کے حصول کے لیے ایران بھیجنا شامل تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو موصول ہونے والی خصوصی رپورٹوں کے مطابق عبدالرضا شہلائی عراق میں اپنی موجودگی کے دوران الحشد الشعبی ملشیا کے نائب سربراہ ابو مہدی المہندس کے ساتھ رابطے میں تھا ، المہندس حالیہ امریکی حملے میں سلیمانی کے ساتھ مارا گیا ہے۔ شہلائی پر 1983 میں کویت میں امریکی سفارت خانے پر ہونے والے دھماکے میں ملوث ہونے کا بھی الزام ہے۔ اس کے علاوہ وہ پاسداران انقلاب اور عراق میں ایران کے موجودہ سفیر بریگیڈیئر جنرل ایرج مسجدی کے ساتھ رابطہ کاری میں رہا۔

عراق کے سابق صدر صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد شہلائی دھیرے دھیرے عراق منتقل ہوا اور پھر وہاں ایران نواز عراقی ملیشیاؤں کا ذمے دار بنا دیا گیا۔ سال 2018 میں شہلائی کو یمن کے معاملات دیکھنے کی ذمے داری سونپی گئی۔ اس مقصد کے لیے وہ بحر عُمان پر واقع کنارک فوجی اڈے میں ٹھہر گیا اور پھر یمن کے صوبے صعدہ کے نزدیک ایک خفیہ پر مقام منتقل ہو گیا۔