.

شامی فوج کے شمال مغربی صوبہ ادلب میں فضائی حملے،18افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شمال مغربی صوبہ ادلب میں ہفتے کے روز اسدی فوج کے فضائی حملوں میں اٹھارہ شہری ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے اطلاع دی ہے کہ ادلب شہر پراسدی فوج کے فضائی حملے میں سات شہری ہلاک ہوئے ہیں۔شامی فوج نے صوبائی دارالحکومت کے نواح میں واقع دو اور قصبوں پر فضائی بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں گیارہ شہری مارے گئے ہیں۔

شامی فوج نے یہ فضائی حملے باغیوں کے زیر قبضہ ادلب میں نئی جنگ بندی کے آغاز سے صرف ایک روز قبل کیے ہیں۔

واضح رہے کہ ادلب میں اس وقت قریباً تیس لاکھ افراد رہ رہے ہیں۔اس صوبے پر ماضی میں القاعدہ سے وابستہ تنظیم ہیئت تحریرالشام کی قیادت میں مختلف باغی گروپوں کا کنٹرول ہے اور یہاں شام کے دوسرے صوبوں سے بھی گذشتہ برسوں کے دوران میں اہلِ سُنت کی آبادی کو نقل مکانی کے بعد لابسایا گیا ہے۔

شامی اور روسی فوج نے گذشتہ سال اپریل میں ادلب میں باغی گروپوں کے خلاف ایک تباہ کن جنگی کارروائی تھی جس کے نتیجے میں ایک ہزار افراد مارے گئے تھے اور کم سے کم چار لاکھ بے گھر ہوگئے تھے۔

بشارالاسد کے پشتیبان روس نے 31 اگست2019ء کو ادلب میں باغیوں اور اسد رجیم کے درمیان ثالثی کے بعد جنگ بندی کا اعلان کیا تھا لیکن اس نے خود اور اس کے اتحادی شامی صدر بشارالاسد کی فوج نے ادلب میں باغیوں کے خلاف کارروائی کے نام پر فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔