.

ادلب کے شدت پسند لیبیا منتقل ہوگئے ہیں: لاؤروف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی وزیر کارجہ سرگئی لاؤروف نے باور کرایا ہے کہ متعدد "شدت پسند" شام کے صوبے ادلب سے لیبیا منتقل ہو چکے ہیں۔

منگل کے روز کولمبو میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ "تقریبا 90% شامی اراضی" شامی حکومت کی فورسز کے کنٹرول میں آ گئی ہے۔ لاؤروف کے مطابق شدت پسند اِدلب میں اپنے ٹھکانوں سے ہاتھو دھو رہے ہیں۔

لیبیا کے حوالے سے روسی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ لیبیا کی فوج کے سربراہ خلیفہ حفتر اور وفاق کی حکومت کے سراہ فائز السراج کے درمیان گذشتہ روز ماسکو میں بات چیت کے دوران لیبیا کے تصفیے کے حوالے سے حتمی نتائج سامنے نہیں آ سکے۔

لاؤروف نے لیبیا میں تمام فریقوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ذمے داری پوری کریں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ لیبیا میں فائر بندی کے سمجھوتے تک پہنچنے کے لیے روس اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے سلسلے میں لاؤروف نے کہا کہ "ہم کسی بھی جانب سے جارحیت کی مخالفت کرتے ہیں ... ہم واشنگٹن اور ایران سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ جذبات کو قابو میں رکھیں اور تحمل مزاجی کا مظاہرہ کریں"۔

خلیفہ حفتر اور فائز السراج جنگ بندی کے حوالے سے کسی معاہدے تک پہنچنے بغیر ہی ماسکو سے واپس روانہ ہو گئے۔ اس جنگ بندی کی تجویز روس اور ترکی نے دی تھی تا کہ ملک میں طویل عرصے سے جاری جنگ کو اختتام تک لایا جا سکے۔

اس سے قبل فائز السراج اور خلیفہ حفتر پیر کی شام ماسکو پہنچے تھے۔ ان کی آمد کا مقصد روس اور ترکی کے عسکری ذمے داران کے ساتھ مل کر مجوزہ جنگ بندی کو زیر بحث لانا تھا۔ اس دوران حفتر اور السراج کے درمیان براہ راست ملاقات نہیں ہوئی۔

ملاقاتوں کے بعد روسی وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف اور ان کے ترک ہم منصب مولود چاوش اولو نے اعلان کیا کہ فائز السراج نے سمجھوتے کے مسودے پر دستخط کر دیے ہیں جس میں مجوزہ جنگ بندی کی تفصیلات واضح کی گئی ہیں۔ تاہم خلیفہ حفتر نے اس حوالے سے سوچنے کے لیے مزید وقت طلب کیا ہے۔

آج منگل کی صبح روسی وزارت خارجہ نے اعلان کیا کہ خلیفہ حفتر معاہدے پر دستخط کے بغیر ہی ماسکو سے روانہ ہو گئے۔ روسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق فائز السراج بھی واپس روانہ ہو چکے ہیں۔ روسی وزارت خارجہ نے مزید بتایا کہ فریقین کے ساتھ کام کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔