.

یوکرینی جہاز کو ایک نہیں بلکہ دو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا

یوکرینی مسافر طیارے کو نشانہ بنانے کی نئی ویڈیو جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی اخبار'نیو یارک ٹائمز' نے منگل کے روزاپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ سیکیورٹی کیمرے کے ذریعہ ریکارڈ کی گئی نئی ویڈیو فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ 8 جنوری کو تہران سے پرواز کے بعد دوایرانی میزائل 30 سیکنڈ کے وقفے سے یوکرین کے مسافر طیارے سے ٹکرائے تھے۔ اس فوٹیج سے ظاہرہوتا ہے کہ یوکرین کے جہاز کو ایک میزائل نہیں بلکہ دو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا تھا۔

اخبار نے بتایا کہ یہ دونوں میزائل طیارے سے تقریبا 12 کلومیٹر دور ایرانی فوجی مرکز سے لانچ کیے گئے۔ میزائل حملوں کے بعد طیارہ فورا نہیں گرا بلکہ اس میں آگ بھڑک اٹھی تھی اور اس نے واپس تہران ہوائی اڈے کی طرف آنے کی بھی کوشش کی تھی۔

اس سے قبل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک فوٹیج میں جہاز کو آگ کے گولے کی شکل میں فضاء سے زمین پر گرتے دیکھا جاسکتا تھا۔

آٹھ جنوری ہفتے کے روز ایرانی پاسداران انقلاب نے یوکرین کے ایک مسافر طیارے کو میزائل حملے میں مار گرانے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ طیارے میں عملے سمیت 176 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

ایرانی پاسداران انقلاب کے سینیر عہدیدار امیر علی حاجی زادہ نے کہا تھا کہ یوکرین کے طیارے کو انسانی غلطی سے نشانہ بنایا گیا۔ آپریٹر نے جہاز کو کروز میزائل کے شبے میں بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا۔

ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ یوکرین کے طیارے کو میزائل سے نشانہ بنانے میں ملوث افراد کو ضرور سزا ملے گی۔ انہوں نے اسے ایک ناقابل معافی جرم قرار دیا تھا۔

منگل کے روز ایرانی پاسداران انقلاب نے طیارے کو نشانہ بنانے والے شخص کو حراست میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔