.

ادلب میں لڑائی شدت اختیار کرگئی، 50 جنگجو، 12 شامی فوجی ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں اپوزیشن کے حامیوں کے زیر کنٹرول ادلب کے علاقے میں اپوزیشن جنگجوئوں اور بشارالاسد کی وفادار فوج کے درمیان لڑائی مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔ روسی حکام کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تازہ لڑائی میں ادلب میں کم سے کم 50 جنگ جو اور 12 شامی فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق روسی وزارت دفاع اور شام میں روسی مصالحتی مرکز کے چیئرمین یوری بورینکوف کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ادلب میں حکومت اور اپوزیشن کے حامی مسلح گروپوں میں لڑائی میں تیزی آگئی ہے۔ گذشتہ روز مجموعی طورپر 50 جنگجو اور شامی فوج کے مزید 12 اہلکار مارے گئے جب کہ جمعرات کے روز الاذقیہ، حلب، حماۃ اور ادلب میں 24 شامی فوجی ہلاک اور 24 زخمی ہوگئے تھے۔

روسی عہدیدار یوری بورینکوف نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ جمعہ کے روز ادلب اور دوسرے علاقوں میں جنگجوئوں اور شامی فوج کے درمیان جھڑپوں میں 12 شامی فوجیوں کی ہلاکت اور 12 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق مشیل بیچلیٹ نے جمعہ کے روز ادلب میں جاری لڑائی کے فوری خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام میں تازہ جنگ بندی ایک بار پھر ناکام ہوگئی۔

شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پرنظر رکھنے والے ادارے 'سیرین آبزرویٹری برائے انسانی حقوق' نے بتایا ہے کہ عسکریت پسند گروہوں نے مشرقی ادلب کے دیہی علاقوں شامی فوج پر جوابی حملہ کیا۔ اس دوران انہوں نے تل مصیطف اور تلخطرہ گاؤں کا کنٹرول سنبھال لیا ، جب کہ جھڑپوں کے دوران متعدد اسلحہ کے علاوہ ایک ٹینک اور ایک بی ایم پی گاڑی کو تباہ کردیا گیا۔ انہوں نے شامی فوج سے دو ٹینک اور ایک بی ایم پی گاڑی بھی قبضے میں لے لی۔

دوسری طرف حکومت نواز گروپوں اور مخالف جنگجوئوں کے درمیان ابو ضہور کے مغرب میں خالی ایئر ڈیفنس بٹالین ہیڈ کواٹر کے اطراف میں بوجریف اور الذھبیہ محاذوں پر لڑائی جاری ہے۔

شامی آبزرویٹری نے مشرقی ادلب دیہی علاقوں میں جھڑپوں کے دوران حکومتی دستوں کے 24 ارکان کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ زمینی اور فضائی حملوں اور پرتشدد جھڑپوں کے دوران 12 شدت پسندوں سمیت 18 مسلح جنگجوئوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔