.

لبنان: بیروت میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں 75 مظاہرین زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے دارالحکومت بیروت میں احتجاجی مظاہرے کے دوران میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں 75 افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

بیروت میں لبنانیوں نے ہفتے کے روز پارلیمان کے نزدیک احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ سکیورٹی فورسز نے انھیں پارلیمان کی عمارت کے نزدیک جانے سے روکنے اور منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے پھینکے ہیں اورپانی توپ کا استعمال کیا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق پولیس کے لاٹھی چارج کے جواب میں نوجوان مظاہرین نے پتھراؤ کیا ہے اور پولیس اہلکاروں کی جانب گملے بھی پھینکے ہیں۔

لبنان میں اکتوبر سے سیاسی اشرافیہ کے خلاف پُرامن احتجاجی تحریک جاری ہے۔ اس میں چند ہفتے کے لیے وقفہ آیا تھا لیکن اسی ہفتےشہریوں نے ایک مرتبہ پھر اپنے مطالبات کے حق میں پُرامن احتجاج شروع کردیا ہے۔اب وہ نئی حکومت کی تشکیل میں مسلسل تاخیر پر سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ وہ جلد سے جلد نئی حکومت کی تشکیل کا مطالبہ کررہے ہیں تاکہ ملک میں التوا کا شکار اقتصادی اصلاحات کو عملی جامہ پہنایا جاسکے۔

تاہم لبنان کے مختلف سیاسی دھڑوں کے درمیان ڈھائی تین ماہ گزرجانے کے باوجود نئی کابینہ کی تشکیل کے لیے کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی۔مظاہرین آزاد ماہرین اور ٹیکنوکریٹس پر مشتمل نئی حکومت کی تشکیل کا مطالبہ کررہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ روایتی سیاست دانوں کو اب اقتدار سے دور ہی رکھا جائے۔

مظاہرین نے آج دوپہر کے بعد بیروت کے مختلف علاقوں سے چھوٹی چھوٹی ٹولیوں کی شکل میں نکلنا شروع کیا تھا اور پھر وہ ریلیوں کی صورت میں شہر کے مرکزی حصے میں واقع پارلیمان کی جانب بڑھنا شروع ہوگئے تھے۔اس مظاہرے کا نعرہ ’’ ہم قیمت نہیں چکائیں گے‘‘ تھا۔

گذشتہ چند روز کے دوران میں لبنانی پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا ہے اور اشک آور گیس کے گولے پھینکے ہیں جس سے کئی ایک افراد زخمی ہوئے ہیں۔لبنانیوں کے غیظ وغضب میں بنکوں کے حالیہ اقدامات سے بھی اضافہ ہوا ہے۔ بنکوں نے کھاتہ داروں کی ان کی جمع شدہ رقوم تک رسائی بند کردی تھی۔اس پر مشتعل مظاہرین نے گذشتہ منگل کی شب بنکوں کی عمارتوں پر حملے کیے تھے اور ان کی اے ٹی ایم مشینیں توڑ دی تھیں۔

گذشتہ چند ماہ کے دوران میں لبنانی پاؤنڈ کی نصف تک قدر گر چکی ہے جبکہ مارکیٹ میں ڈالر کی کم یابی کے بعد اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ہے اور لوگوں کا ملک کے بنک کاری نظام پر اعتماد بری طرح مجروح ہوا ہے جبکہ لبنان کی قومی معیشت حالیہ مہینوں کے دوران میں زبوں حالی سے دوچار ہوئی ہے۔

لبنان میں ہزاروں شہری 17 اکتوبر سے حکمراں طبقے کی بدعنوانیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں۔ وہ سیاسی اشرافیہ کی بدعنوانیوں، پست معیار زندگی،بے روزگاری اور معاشی زبوں حالی کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں اور وہ تمام سیاسی اشرافیہ کو بلا امتیاز ہدفِ تنقید بنا رہے ہیں۔لبنان کے وزیراعظم سعد الحریری ان ملک گیر احتجاجی مظاہروں کے بعد اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے۔