.

مصر : مرکزی بینک کا ایڈوکیٹ فیس بک کی وجہ سے ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں اعلی عدالت نے مرکزی بینک میں کام کرنے والے اُس ایڈوکیٹ کو برطرف کرنے کا فیصلہ سنایا جس نے سوشل میڈیا پر اپنے ساتھیوں کو ضرر پہنچایا تھا۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ مصر میں انفارمیشن ٹکنالوجی سے متعلق جرائم اور سائبر کرائمز کے انسداد کے قانون کا اطلاق کرتے ہوئے فیصلہ سنایا گیا ہے۔

مذکورہ عدالت نے اتوار کے روز حتمی فیصلہ جاری کیا۔ مصر کے مرکزی بینک کے وکیل نے اپنے فیس بک پیج پر بینک کے قانونی شعبے میں کام کرنے والے ملازمین کے بارے میں جھوٹا پروپیگنڈا کیا۔ وکیل نے اپنے ساتھیوں کے خلاف نہایت نامناسب الفاظ اور جملوں کا استعمال کیا۔

عدالت کے مطابق مصری وکیل نے سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے ساتھیوں اور مرکزی بینک کی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔

مصری پارلیمنٹ نے جون 2018 میں انفارمیشن ٹکنالوجی سے متعلق جرائم اور سائبر کرائمز کے انسداد کا قانون منظور کیا تھا۔

قانون کے ضمن میں انٹرنیٹ پر یا انفارمیشن ٹکنالوجی کے کسی ذریعے سے ایسی معلومات، خبریں یا تصاویر پوسٹ کرنا شامل ہے جن سے کسی شخص کی مرضی کے بغیر اس کی پرائیویسی کی خلاف ورزی ہوتی ہو، خواہ پوسٹ کی گئی معلومات درست ہو یا غلط ...!

مقبول خبریں اہم خبریں