.

رواں سال سعودی عرب 9 ارب ڈالر کے بین الاقوامی بونڈز پیش کرے گا : وزیر مالیات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیر مالیات محمد الجدعان نے توقع ظاہر کی ہے کہ مملکت رواں سال کے دوران عالمی منڈی میں 4 ارب ڈالر مالیت کے اضافی حکومتی Debt Instruments پیش کر سکتی ہے۔

بلومبرگ ٹیلی وژن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں الجدعان کا کہنا تھا کہ "میرے خیال میں رواں سال عالمی منڈی میں ہماری جانب سے 9 ارب ڈالر مالیت کے Debt Instruments پیش کیے جائیں گے۔ ان میں 5 ارب ڈالر کے پہلے ہی پیش کر چکے ہیں اور اب 4 ارب ڈالر باقی ہیں"۔

الجدعان کے مطابق یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ سعودی بونڈز کی طلب کی سطح بلند اور بہت اچھی ہے۔ اس سلسلے میں نہ صرف طلب بلکہ بونڈز کے نرخ بھی خوش آئند ہیں۔ سعودی عرب اب بین فنڈنگ کے بین الاقوامی اداروں کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے تا کہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ "ہمارا فنڈنگ پورٹ فولیو تنوع کا حامل ہے"۔

سعودی وزیر نے باور کرایا کہ "مملکت یورو اور سعودی ریال میں بونڈز پیش کرنے کے بارے میں سوچ رہی ہے ،،، اسی طرح سکوک بھی مگر یہ امر مارکیٹ کے حالات پر منحصر ہے"۔

الجدعان نے مزید کہا کہ مورال اور طلب بہت مثبت ہے اور اعداد و شمار یہ ثابت کر رہے ہیں اصلاحات کی روشنی میں ویژن 2030 کے نتائج سامنے آ رہے ہیں۔

سعودی عرب نے دو روز قبل 5 ارب ڈالر کے بونڈز پیش کیے تھے۔ یہ 2020 کے لیے مملکت کی جانب سے پہلے بین الاقوامی بونڈز ہیں۔

الجدعان نے باور کرایا کہ رواں سال حکومتی اخراجات کم ہوں گے تاہم یہ کمی نسبتا زیادہ بڑی نہیں ہو گی۔

سعودی وزیر کے مطابق گذشتہ دو برسوں کے دوران انفرا اسٹرکچر کے منصوبوں کا ایک بڑا حصہ نجی سیکٹر کو دیا گیا جس کے ثمرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔

الجدعان نے واضح کیا کہ کسی بھی قسم کی کساد بازاری کی صورت میں حکومت مداخلت کے لیے تیار ہے جیسا کہ 2017 میں ہوا تھا۔

غیر ملکی مارکیٹس میں سعودی آرامکو کمپنی کے شیئرز پیش کرنے کے حوالے سے الجدعان کا کہنا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ایسا جلد ہونا ممکن نہیں ہے۔