.

بغداد اور ناصریہ میں عراقی فورسز کی فائرنگ سے چار مظاہرین ہلاک،40 سے زیادہ زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے دارالحکومت بغداد اور جنوبی شہر ناصریہ میں سکیورٹی فورسز کی فائرنگ اور جھڑپوں میں ہفتے کے روز چار مظاہرین ہلاک اور چالیس سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق بغداد میں سکیورٹی فورسز نے مظاہرین سے ان کے احتجاجی مرکز اور ایک شاہراہ کو خالی کرانے کے لیے فائرنگ کردی ہے جس کے نیتجے میں ایک شخص ہلاک ہوگیا ہے۔پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں تیس افراد زخمی ہوئے ہیں۔

حالیہ تشدد آمیزمظاہروں سے متاثرہ دوسرے بڑے شہر ناصریہ میں بھی سکیورٹی فورسز نے ایک مرتبہ پھر فائرنگ کی ہے جس کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اور چودہ زخمی ہوگئے ہیں۔

عراق میں مظاہرین کی ان ہلاکتوں سے ایک روز قبل ہی شعلہ بیان مقبول عوامی شیعہ لیڈر مقتدیٰ الصدر نے حکومت مخالف مہم کی حمایت سے دستبردار ہونے کا اعلان کردیا تھا جس کے بعد ایک مرتبہ پھر اس خدشے کا اظہار کیا جارہا ہے کہ سکیورٹی فورسز مظاہرین کے خلاف خونیں کریک ڈاؤن کرسکتی ہیں۔

۔بغداد میں سکیورٹی فورسز نے صبح سے میدان التحریر میں کنکریٹ کی رکاوٹیں ہٹانا شروع کردی تھیں۔اس جگہ اور دریائے دجلہ کے ایک پُل پر مظاہرین نے اکتوبر سے سے احتجاجی دھرنا دے رکھا ہے۔مقتدیٰ الصدر کے احتجاجی تحریک سے اعلان لاتعلقی کے بعد جمعہ کی شب ان کے حامیوں نے احتجاجی کیمپ کو خالی کرنا شروع کردیا تھا۔

ادھر جنوبی شہر بصرہ میں گذشتہ شب سکیورٹی فورسز نے حکومت مخالف احتجاجی دھرنے پر چھاپا مار کارروائی کی تھی اور وہاں اپنی نفری تعینات کردی تھی تاکہ مظاہرین وہاں زیادہ تعداد میں مجتمع نہ ہوسکیں۔پولیس نے شہر میں سولہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

مقتدیٰ الصدرمظاہرین کے عراق کی بدعنوانیوں اشرافیہ کو ہٹانے کو مطالبے کی حمایت کرتے رہے ہیں لیکن انھوں نے اپنے تمام حامیوں کو ان مظاہروں میں بہ طور جماعت شرکت کی ہدایت نہیں کی تھی۔ البتہ ان کے بہت سے حامی اپنے طور پر ان مظاہروں میں شرکت کررہے تھے۔

ان کے حامیوں نے جمعہ کو اپنے طور پر حکومت مخالف مظاہرین سے الگ ایک ریلی نکالی تھی اور انھوں نے عراق سے امریکی فوجیوں کے انخلا کا مطالبہ کیا تھا۔ریلی کے شرکاء کئی گھنٹے کے احتجاج کے بعد پُرامن طور پر منتشر ہوگئے تھے۔

مقتدیٰ الصدر نے ایک ٹویٹ میں لکھا تھا کہ ’’وہ مظاہرین کے ایشو میں مداخلت کی کوشش نہیں کریں گے،مثبت یا منفی طور پر (کسی طرح مداخلت نہیں کریں گے۔)انھیں عراق کی قسمت کا خود فیصلہ کرنے کی آزادی دیں گے‘‘ لیکن انھوں نے اس کی وضاحت نہیں کی تھی۔ بصرہ سے تعلق رکھنے والے مظاہرین نے ایک خط کے ذریعے ان سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنے اس فیصلے پر نظرثانی کریں اور مظاہرین کی حمایت کا سلسلہ جاری رکھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں