امریکی سفارت خانے پر حملے کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے: عبدالمہدی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

عراقی وزیر اعظم اور مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف عادل عبدالمہدی نے اتوارکی شام ایک بیان میں بغداد میں امریکی سفارت خانے پر راکٹ حملوں کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ امریکی سفارت خانے پر حملوں کے سنگین نتائج سامنے آئیں گے۔

عبد المہدی کا کہنا تھا کہ غیرملکی سفارت خانوں پر حملوں سے ریاست کمزور ہوتی ہے اوراس کی خود مختاری متاثر ہوتی ہے۔ کسی دوسرے ملک کے سفارت خانوں کو نشانہ بنانا سفارتی مشن کو مجروح کرنے کےمترادف ہے۔

عراقی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ امریکی سفارت خانے پر حملہ غیر ذمہ دارانہ ہیں اوران کے عراق کی سلامتی پر تباہ کن اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت تمام سفارتی مشنوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرے گی۔

عادل عبد المہدی کا کہنا تھا کہ تمام خیر خواہ اور ذمہ دار قوتیں حکومت کے ساتھ کھڑی ہیں۔ یہ قوتیں حکومت کے ساتھ مل کر غیرملکی سفارت خانوں کے تحفظ کے لیے اٹھائے گئے اقدامات میں تعاون کرتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ مسلح افواج کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی قسم کی تخربی کارروائیوں کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کریں اور حملے کرنے والوں کو گرفتار کریں تاکہ ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جاسکے۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز عراق کے انتہائی سیکیورٹی والے گرین زون میں واقع امریکی سفارت خانے کے قریب سات راکٹ گرے تھے۔ یہ راکٹ حملے ایک ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب امریکا اور عراق میں تین جنوری کو ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی اور الحشد کے نائب مہدی المہندس کی ہلاکت کے بعد کشیدگی پائی جا رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں