.

ایران نے یوکرین کے مسافر طیارے کو مار گرانے پر کس طرح پردہ ڈالا تھا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی اخبار New York Times کے مطابق ایرانی صدر حسن روحانی نے دھمکی دی تھی کہ اگر یوکرین کے مسافر طیارے کو گرائے جانے کا اعتراف نہ کیا گیا تو وہ صدر کے منصب سے مستعفی ہو جائیں گے۔ اخبار کا کہنا ہے کہ ایرانی صدر کو واقعے کے تین روز بعد آگاہ کیا گیا تھا کہ اس واقعے کی ذمے داری ایرانی پاسداران انقلاب پر عائد ہوتی ہے۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق 8 جنوری کو پاسداران انقلاب کے افسر کو جب تہران کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے نزدیک (اس افسر کے نزدیک) ایک نامعلوم شناخت کے طیارے کی موجودگی کا علم ہوا، تو اس کے پاس محض چند سیکنڈز تھے جن میں اسے فیصلہ کرنا تھا کہ آیا وہ ٹریگر چلائے یا نہیں۔ اس سے قبل ایران امریکی فورسز پر بیلسٹک میزائلوں کی بارش کر چکا تھا۔ ایران امریکا کے جوابی حملے کے پیش نظر انتہائی الرٹ پوزیشن میں تھا اور ایرانی فوج آنے والے ممکنہ کروز میزائلوں کے حوالے سے خبردار تھی۔

مذکورہ ایرانی افسر نے فائرنگ کی اجازت حاصل کرنے کے لیے مرکزی کمان سے رابطے کی کوشش کی تاہم وہ کمان تک نہیں پہنچ سکا، لہذا اس نے دو طیارہ شکن میزائل داغ ڈالے۔

میزائلوں کا نشانہ بن کر یوکرین کا مسافر طیارہ فضا میں دھماکے سے پھٹ گیا جس میں 176 افراد سوار تھے۔ اگلے چند منٹوں ایرانی پاسداران انقلاب کو احساس ہو چکا تھا کہ وہ کیا کر بیٹھی ہے۔ اسی موقع پر پاسداران نے اس معاملے پر پردہ ڈالنا شروع کر دیا۔

کئی روز تک ایرانی صدر حسن روحانی کو حقیقت سے بے خبر رکھا گیا جن کی حکومت اعلانیہ طور پر اس بات سے انکار کرتی رہی کہ طیارے کو گرایا گیا ہے۔ بعد ازاں جب روحانی کو اصل واقعے سے آگاہ کیا گیا تو انہوں نے فوری طور پر دھمکی دے ڈالی کہ "اس انارکی اور شورش کو صاف کیا جائے یا پھر وہ مستعفی ہو جائیں"۔

اس پر طیارے کے گرنے کے 72 گھنٹے بعد ایرانی رہبر اعلی علی خامنہ ای نے مداخلت کرتے ہوئے حکومت کو حکم دیا کہ وہ اپنی اس مہلک غلطی کا اعتراف کر لے۔

اخبار کی رپورٹ میں اس پس پردہ مباحثے پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے جو حکومت نے حادثے سے متعلق ایران کی ذمے داری پر پردہ ڈالنے کے لیے کیا۔

امریکی اخبار کے مطابق ایرانی نظام کے اندر ابھی تک سنگین انقسام موجود ہے اور اس کا واقعے کی تحقیقات، ہرجانے سے متعلق مذاکرات اور احتساب کے حوالے سے غیر فیصلہ کن تنازع پر اثر انداز ہونا نا گزیر ہے۔

واضح رہے کہ 7 جنوری کی نصب شب ایران ،،، عراق میں امریکی عسکری ٹھکانوں پر بیلسٹک میزائل حملے کی تیاری کر رہا تھا۔ اس دوران ایرانی پاسداران انقلاب کے سینئر ارکان نے طیارہ شکن دفاعی یونٹوں کو تہران میں امام خمینی ہوائی اڈے کے نزدیک حساس عسکری زون کے اطراف تعینات کر دیا۔

ایران قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا انتقام لینے کے قریب تھا اور ایرانی فوج امریکی افواج پر کاری ضرب لگانے کی تیاری کر رہی تھی۔ تاہم بدقسمتی سے حکومت نے تہران کے ہوائی اڈے پر شہری تجارتی پروازوں کی آمد و رفت کی اجازت کا سلسلہ جاری رکھا۔

پاسداران انقلاب میں فضائیہ کے سربراہ جنرل امیر علی حاجی زادہ کے مطابق اس کے یونٹوں نے تہران میں ذمے داران سے مطالبہ کیا تھا کہ ایران کی فضائی حدود بند کر دی جائے اور تمام فضائی پروازوں کا سلسلہ روک دیا جائے مگر یہ مطالبہ بے فائدہ رہا۔ ایرانی ذمے داران کو اندیشہ تھا کہ ہوائی اڈے کی بندش سے اجتماعی افراتفری جنم لے سکتی ہے کیوں کہ امریکا کے ساتھ جنگ قریب آ چکی تھی۔ یہ بات پاسداران انقلاب کے ارکان اور دیگر ایرانی ذمے داران نے نیو یارک ٹائمز اخبار کو بتائی۔

عراق میں امریکی اڈوں پر ایرانی میزائل حملے کے آغاز کے بعد ایرانی مرکزی فضائی دفاعی قیادت نے انتباہ جاری کیا کہ امریکی جنگی طیارے واقعتا اڑان بھر چکے ہیں اور کروز میزائل ایران کا رخ کر رہے ہیں۔

اس کے مقابل امریکی عسکری ذمے داران نے بتایا کہ اُس رات ایرانی فضائی حدود میں یا اس کے قریب امریکی طیارے موجود نہیں تھے۔

اس معاملے کو زیر بحث لانے والی ایرانی کمیٹی بدھ کی شب اس نتیجے پر پہنچی کہ یوکرین کا مسافر طیارہ انسانی غلطی کے سبب مار گرایا گیا۔ خامنہ ای کو یہ بات بتا دی گئی تاہم صدر روحانی اور دیگر ذمے داران کو اس بات سے آگاہ نہیں کیا گیا۔

ایرانی پاسداران انقلاب کے ارکان اور پیش رفت سے با خبر سفارت کاروں اور ذمے داروں کے مطابق سینئر قیادت میں یہ معاملہ زیر بحث آیا کہ طیارے کو نشانہ بنانے کی بات صیغہ راز میں رکھی جائے یہاں تک کہ طیارے کے بلیک بکسوں کی جانچ اور سرکاری سطح پر تحقیقات مکمل نہ کر لی جائیں۔ سینئر قیادت میں کے نزدیک یہ اس عمل میں کئی ماہ لگ سکتے تھے۔

ایران میں حکومت نے گذشتہ برس نومبر میں اٹھنے والے عوامی تحریک کو تشدد کے ذریعے کچل دیا تھا۔ تاہم امریکا کے ہاتھوں قاسم سلیمانی کی ہلاکت اور اس کے بعد امریکا کے خلاف ایرانی ضربوں نے رائے عامہ کو بدل ڈالا۔ ایک لمحے میں ایرانی عوام کے اندر قومی یک جہتی حرکت میں آ گئی۔

ایرانی حکام کو اندیشہ ہوا کہ یوکرین کے مسافر طیارے کو مار گرانے کا اعتراف کرنے کے نتیجے میں عوام کے ملی یک جہتی کے جذبات سبوتاژ ہو جائیں گے اور اس کا نتیجہ حکومت مخالف احتجاج کی نئی لہر کی صورت میں سامنے آئے گا۔

حادثے کے اگلے روز جب یوکرین کے تحقیق کار تہران پہنچنا شروع ہوئے تو اسی روز مغربی ذمے داران یہ اعلان کر رہے تھے کہ ان کے پاس اس بات کے شواہد ہیں کہ ایران نے غلطی سے یہ طیارہ مار گرایا۔

حکومت پر دباؤ بڑھتا جا رہا تھا اور سوشل میڈیا پر ایرانی حلقوں کی جانب سے بدقسمت طیارے کے مسافروں کے لیے ہمدردی پر مبنی تبصروں کا تانتا بندھ گیا۔ بعض لوگوں نے ایران پر اپنے شہریوں اور غیر ملکی باشندوں کو ہلاک کرنے کا الزام عائد کیا۔

بیرون ملک کام کرنے والے فارسی زبان کے سیٹلائٹ چینلوں نے طیارے کے حادثے کی جامع کوریج کی۔ ان میں مغربی حکومتوں کی وہ رپورٹیں بھی شامل تھیں جن میں کہا گیا کہ طیارہ ایران نے مار گرایا۔

ذمے داران کے مطابق صدر روحانی نے کئی مرتبہ اپنی عسکری قیادت کو طلب کرنے کی کوشش کی مگر قیادت نے کوئی جواب نہیں دیا۔

کئی گھنٹوں بعد ملک میں سینئر عسکری قیادت نے ایک خصوصی اجلاس منعقد کیا اور صدر روحانی کو حقیقت سے آگاہ کیا۔ ایرانی صدر کے مقرب ذمے داروں کے مطابق حقیقت جاننے کے بعد روحانی طیش میں آ گئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایران کی جانب سے فوری طور پر یہ اعلان کیا جائے کہ اس نے ایک الم ناک غلطی کا ارتکاب کیا ہے اور وہ نتائج کو قبول کرتا ہے۔

عسکری ذمے داران نے خبردار کیا کہ اس اعلان کے نتائج سے ملک غیر مستحکم ہو سکتا ہے۔ تاہم صدر روحانی نے اپنے مستعفی ہونے کی دھمکی دے دی۔ روحانی کا کہنا تھا کہ کینیڈا ، جس کے سب سے زیادہ غیر ملکی مسافر طیارے میں سوار تھے اور امریکا جو بوئنگ کمپنی کا ملک ہے وہ دونوں آخر کار اپنے شواہد پیش کر دیں گے۔ روحانی کے مطابق اس کے نتیجے میں ایران کی ساکھ اور حکومت پر عوام کے اعتماد کو پہنچنے والے نقصان سے ایک بہت بڑا بحران جنم لے گا جب کہ ایران اس وقت مزید دباؤ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

اجلاس میں کشیدگی بڑھ جانے پر وہاں ایرانی رہبر اعلی کے ایک نمائندے نے خامنہ ای کو صورت حال سے آگاہ کیا۔ اس پر خامنہ ای نے اپنے طور سے ایک پیغام ارسال کیا جس میں حکومت کو حکم دیا گیا کہ وہ ایک بیان تیار کرے اور جو کچھ ہوا اس کا بیان میں اعتراف کرے۔