.

اسرائیل،فلسطین تنازع کیسے حل ہوگا؟صدرڈونلڈ ٹرمپ کے ویژن کے نمایاں خدوخال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل،فلسطینی تنازع کے حل کے لیے اپنے مشرقِ اوسط امن منصوبہ کا اعلان کردیا ہے۔انھوں نے اس کو ’صدی کی ڈیل‘ قراردیا ہے۔اس مکمل منصوبہ میں مشرقِ اوسط کے اس دیرینہ تنازع کا دو ریاستی حل پیش کیا گیا ہے۔ریاستِ اسرائیل کے ساتھ فلسطینی ریاست قائم کی جائے گی اور مستقبل میں قائم ہونے والی اس ریاست میں شامل علاقوں میں اسرائیل چارسال کے لیے ترقیاتی کاموں کو منجمد کردے گا۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق اس منصوبہ کے نمایاں نکات حسب ذیل ہیں:

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ ویژن اب تک پیش کیے گئے تمام منصوبوں میں زیادہ سنجیدہ ، حقیقت پسندانہ اور تفصیلی ہے۔اس سے اسرائیل ، فلسطین اور پورا خطہ زیادہ محفوظ اور خوش حال ہوسکتا ہے۔اسرائیلی اور فلسطینی برابری کے حقوق کی بنیاد پر ایک باوقار زندگی گزار سکتے ہیں۔

یہ ویژن امن کی جانب تاریخی پیش رفت کے لیے ایک بنیاد فراہم کرتا ہے۔امریکا کو امید ہے کہ اس ویژن سے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان براہ راست مذاکرات کی بحالی کی راہ ہموار ہوگی۔اب یہ اسرائیلی اور فلسطینی لیڈروں پر منحصر ہے کہ وہ سیاسی تعطل کو دور کرنے کے لیے دلیرانہ اور حوصلہ مندانہ انداز میں فیصلے کریں۔اس ویژن کی بنیاد پر مذاکرات کا سلسلہ بحال کریں۔

اس تنازع میں پہلی مرتبہ صدر ٹرمپ کی اسرائیل کے ساتھ دوریاستی حل کے نقشے کے بارے میں مفاہمت طے پائی ہے۔اس ویژن میں ایک قابل عمل فلسطینی ریاست کا خاکا پیش کیا گیا ہے اور اسرائیل نے مستقبل میں قائم ہونے والی فلسطینی ریاست کی شرائط سے اتفاق کیا ہے۔

اس ویژن میں قراردیا گیا ہے کہ ریاست اسرائیل کو یہود کی قومی ریاست تسلیم کیا جائے گا اور ریاست فلسطین کو فلسطینی عوام کی قومی ریاست تسلیم کیا جائے گا۔ان دونوں ریاستوں میں تمام شہریوں کو مساوی شہری حقوق حاصل ہوں گے۔

اس ویژن کے تحت نہ تو فلسطینیوں اور نہ ہی اسرائیلیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا جائے گا۔اس میں اسرائیل کے سکیورٹی کے تقاضوں کو مکمل طور پر ملحوظ رکھا گیا ہے۔اسرائیل کو کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے اپنے تحفظ ودفاع کاحق حاصل ہے۔

اسرائیل کو دریائے اردن کے مغربی کنارے کے علاقے میں سکیورٹی کی ذمے داری کا حق حاصل ہوگا۔ویژن کے تحت فلسطینی ریاست غیرفوجی ہوگی جو اسرائیل کے ساتھ پُرامن طور پر رہے گی۔ وقت کے ساتھ فلسطینی امریکا اور اسرائیل کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ وہ سکیورٹی کی مزید ذمے داریاں سنبھالیں گے اور اسرائیل بتدریج سکیورٹی کی ذمے داریوں سے سبکدوش ہوتا چلا جائے گا۔

مقبوضہ بیت المقدس اور مقدس مقامات

اسرائیل یروشلیم کے مقدس مقامات کا تحفظ جاری رکھے گا اور یہود ، عیسائیوں ، مسلمانوں اور تمام عقیدوں کے لوگوں کو عبادت کی آزادی کی ضمانت دے گا۔حرم الشریف ( مسجدِ اقصیٰ) کی جوں کی توں حیثیت برقرار رکھی جائے گی۔

یروشلیم میں مسلمانوں کے مقدس مقامات کے ضمن میں شاہِ اردن کے تاریخی اور خصوصی کردار کو برقرار رکھا جائے گا۔تمام مسلمانوں کو پُرامن طور پرعبادت کے لیے مسجد الاقصیٰ میں آنے کی اجازت ہوگی اور انھیں خوش آمدید کہا جائے گا۔

فلسطین کی مستقبل میں ریاست

ویژن میں فلسطینیوں کے لیے علاقے میں توسیع کی تجویز پیش کی گئی ہے۔وہ غربِ اردن اور غزہ کے برابر مزید علاقوں پر اپنی ریاست قائم کریں گے۔اسرائیل نے دو ریاستی حل کے لیے چار سال تک اراضی کو منجمد کرنے سے اتفاق کیا ہے۔

یروشلیم بدستور متحد رہے گا۔یہ اسرائیل کا بدستور دارالحکومت رہے گا جبکہ ریاست فلسطین کا دارالحکومت القدس ہوگا اور اس میں مشرقی یروشلیم کے علاقے شامل ہوں گے۔اس ویژن کے تحت فلسطینیوں کی ریاست کی اراضی ان کے زیراستعمال موجودہ علاقوں سے دُگنا ہوجائے گی۔

ویژن کے تحت فلسطینی حیفا اور اشدود کی بندرگاہوں کو استعمال کرسکیں گے اور ان کا انتظام چلا سکیں گے۔وہ بحیرہ مردار کی شمالی ساحلی پٹی میں سیاحتی مقام تعمیر کرسکیں گے۔ وہ وادی اردن میں زرعی سرگرمیوں کو جاری رکھیں گے۔

یہ ویژن مہاجروں کی جوں کی توں صورت حال کو ختم کردے گااور خطے کو حقیقی معنوں میں تبدیلی کی ایک راہ پر ڈال دے گا۔یہاں سلامتی اور استحکام آنے کی صورت میں خوش حالی کے بہ کثرت مواقع دستیاب ہوں گے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق مشرق اوسط کو ایران اور دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے ایک مضبوط شراکت داری کی ضرورت ہے۔صدر ٹرمپ نے اس علاقائی شراکت داری کی بنیاد ڈال دی ہے۔وہ اسرائیل اور اس کے ہمسایوں کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کررہے ہیں۔

اس ویژن کے تحت فلسطینی مہاجرین کو مستقبل میں قائم ہونے والی فلسطینی ریاست میں آباد ہونے کا موقع دیا جائے گا،ان کے پاس یہ بھی انتخاب ہوگا کہ وہ جس ملک میں اس وقت رہ رہے ہیں ، وہیں وہ مستقل طور پر قیام پذیر ہوجائیں یا پھر کسی تیسرے ملک میں جابسیں۔

امریکا ان مہاجرین کی دوبارہ آبادکاری کے عمل میں مالی معاونت کے لیے عالمی برادری سے مل کر ایک ٹرسٹ قائم کرے گا۔

ویژن کے تحت پچاس ارب ڈالر مالیت کا ’امن سے خوش حالی اقتصادی منصوبہ‘ وضع کیا جائے گا ۔اس سے فلسطینی معیشت میں نمایاں بہتری آئے گی۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی صورت میں روزگار کے دس لاکھ سے زیادہ مواقع پیدا ہوں گے۔فلسطینیوں کی مجموعی قومی پیداوار( جی ڈی پی) کی شرح دگنا ہوجائے گی۔بے روگازی کی شرح گھٹ کر دس فی صد سے بھی کم رہ جائے گی اور غُربت کی شرح نصف رہ جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں