.

کیا نئے قطری وزیراعظم بدعنوانی کے کیس میں ماخوذ ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر کے نئے وزیراعظم شیخ خالد بن خلیفہ آل ثانی کامبیّنہ طور پر ملک میں کھیلوں کے عالمی مقابلوں کے انعقاد کے لیے بدعنوانی کی ایک ڈیل سے تعلق رہا ہے۔

شیخ خالد قطر کے شاہی خاندان کے رکن ہیں۔وہ ملک کے وزیر داخلہ بھی رہ چکے ہیں۔فرانسیسی آن لائن تحقیقاتی جریدے میڈیا پارٹ اور برطانوی اخبار گارجین کے مطابق انھوں نے انٹرنیشنل ایسوسی ایشن ایتھلیٹکس فیڈریشن (آئی اے اے ایف) کے مارکیٹنگ کنسلٹنٹ پاپا ساتا ڈیاک کے ساتھ رقم کی منتقلی کے ایک سمجھوتے کے بارے میں تبادلہ خیال کیا تھا۔اس کے بعد چونتیس لاکھ ڈالر کی رقم ادا کی گئی تھی۔

یہ رقم اکتوبر اور نومبر 2011ء میں دو اقساط میں ادا کی گئی تھی۔ فرانسیسی حکام اب اس کی تحقیقات کررہے ہیں۔اس کے ایک ماہ کے بعد آئی اے اے ایف نے 2017 میں ہونے والی ورلڈ ایتھلیٹکس چیمپئن شپ کے میزبان ملک کا فیصلہ کیا تھا۔

گارجین کی رپورٹ کے مطابق فرانسیسی تحقیقات کاروں کو شُبہ ہے کہ یہ رقم قطر کو اس چیمپئن شپ کی میزبانی دلانے کے لیے ووٹ حاصل کرنے کی غرض سے رشوت کے طور پر دی گئی تھی۔

پیرس کی سینیٹ جرمین فٹ بال کلب کے صدر ناصر الخلیفی سے بھی 2019ء سے کرپشن کے الزام میں تحقیقات کی جارہی ہے۔تب یہ اعلان کیا گیا تھا کہ آئی اے اے ایف کے ایک سابق عہدہ دار نے دو مرتبہ مذکورہ مالیت کی رقم وصول کی تھی۔شیخ خالد آل ثانی نے مبیّنہ طور پر اسی کے بارے میں ڈیاک سے بات چیت کی تھی۔

گارجین اور میڈیا پارٹ کو ملنے والی ایک مبیّنہ ای میل کے مطابق ڈیاک نے اس میں لکھا تھا کہ ’’ آپ کو پینتالیس لاکھ ڈالر کی منتقلی کی بنک تفصیل میل سے منسلکہ مل جائے گی۔چار لاکھ چالیس ہزار کا بیلنس آپ دوحہ ہی میں رکھیں۔میں جب آیندہ وہاں آؤں گا تو اس کو وصول کرلوں گا۔‘‘

برطانوی اخبار نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ڈیاک نے خاص طور پر یہ کہا تھا کہ ’’یہ رقم آج ہی ادا کردی جائے تاکہ میں صدر کے ساتھ چیزوں کو حتمی شکل دے سکوں۔‘‘

اس میل میں جن صدرصاحب کا ذکر کیا گیا ہے ، وہ بظاہر ڈیاک کے والد لامین تھے جو اس وقت آئی اے اے ایف کے صدر تھے۔

امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے شیخ خالد آل ثانی کو منگل کے روز ملک کا نیا وزیراعظم مقرر کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں