.

ایران : 40% آبادی غربت کی لکیر سے نیچے ، نائب صدر کا بدعوانی پھیل جانے کا اقرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی صدر حسن روحانی کے نائب اسحاق جہانگیری نے اس بات کا اقرار کیا ہے کہ ملک میں غربت اور بدعنوانی پھیل رہی ہے۔ جہانگیری نے خبردار کیا کہ "بدعنوانی انقلاب کے جسم میں دیمک کی مانند سرائیت کر رہی ہے"۔

بدھ کے روز اپنے خطاب میں ایرانی نائب صدر نے مزید کہا کہ "ایسے میں جب کہ بدعنوانی پھیل رہی ہے اور خاندانوں کو گزر بسر کی روٹی بھی میسر نہیں آ رہی ،،، بعض لوگوں کی جانب سے سرکاری مال کی لوٹ مار جاری ہے"۔

اسحاق جہانگیری نے انسداد بدعنوانی کے سلسلے میں سنجیدہ کوششوں کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "اس حوالے سے جامع اور کڑی نگرانی کی ضرورت ہے اور شفافیت کے واسطے صحافت کے کردار کو قبول کیا جائے گا"۔

ایرانی صدر کے نائب کے مطابق 1979 کے انقلاب کی کامیابی کے بعد اس وقت ملک کو دشوار ترین حالات کا سامنا ہے۔

واضح رہے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے 2019 کے لیے اپنی سالانہ رپورٹ میں بتایا تھا کہ ایران دنیا کے بدعنوان ترین ممالک مین شامل ہے۔ شفافیت کے لحاظ سے دنیا کے 180 ممالک کی فہرست میں ایران کا 146 واں نمبر ہے۔

ادھر ایرانی پارلیمنٹ کی خاتون رکن ہاجر چنارانی نے انکشاف کیا ہے کہ "بد انتظامی اور بعض ذمے داران کی نا اہلی کے سبب 40% ایرانی عوام غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں ... اسی طرح ایرانی کرنسی دنیا میں کمزور ترین ہے"۔

ہاجر چنارانی ایرانی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے متعلق پارلیمانی کمیٹی کی رکن بھی ہیں۔ پیر کے روز "اصلاحات نيوز" ویب سائٹ کو دیے گئے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ "بیرونی حملہ اور سیٹلائٹس ایرانی عوام کے ارادے کو متزلزل نہیں کر سکتے تاہم بد انتظامی اور بعض ذمے داران کی جانب سے جبر و استحصال کے باعث ایرانی عوام عدم اطمینان کا شکار ہوئے"۔

چنارانی کے مطابق "یہ کتنی متضاد بات ہے کہ وہ ملک جس کے پاس کوئلے کی سب سے بڑی کانیں ہیں، دنیا کے دوسرے بڑے گیس کے ذخائر ہیں، دنیا کے تیسرے بڑے تیل کے ذخائر ہیں ... قالین، پستے، کیویار (مچھلی کے انڈے)، زعفران، چاول، پانی، بجلی، چائے وغیرہ کے لحاظ سے وہ پہلی پوزیشن رکھتا ہے مگر اس کی کرنسی دنیا میں کم ترین قیمت کی کرنسیوں میں سے ہے"۔

یاد رہے کہ گذشتہ برس نومبر میں ایندھن کی قیمتوں میں 300% اضافے کے سبب ایران کے اکثر شہروں اور صوبوں میں عوام کا شدید احتجاج اور مظاہرے پھوٹ پڑے تھے۔ اس دوران ایرانی حکام کی جانب سے شدید کریک ڈاؤن ک نتیجے میں 1500 کے قریب افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہو گئے۔ اس کے علاوہ ہزاروں افراد کو گرفتار بھی کیا گیا۔