.

ترکی کو قطر میں انٹیلی جنس کارروائیوں کی اجازت دیے جانے کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کی حکومت کی ایک دستاویز سامنے آئی ہے جس میں بتایاگیا ہے کہ قطر اور ترکی کے درمیان سنہ 2016ء میں جو دفاعی معاہدہ طے پایا تھا اس کے تحت ترکی کی مسلح افواج کو قطر میں نگرانی اور انٹیلی جنس آپریشن کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔

ترکی کی 'نورڈیک مانیٹر' ویب سائٹ پر شائع کی گئی دستاویز میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سنہ 2016ء میں ترک جنرل اسٹاف کو قطر میں انٹیلیجنس اور نگرانی کی کارروائیوں کی باقاعدہ اجازت دی گئی تھی۔

دستاویز میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ ترک فوج کو کسی بھی طرح کے فوجی وسائل استعمال کرنے کی اجازت ہے۔ ترکی قطر میں داخل ہونے والے کسی بھی اسلحہ سازی کے نظام کی جانچ کرسکتا ہے۔

یہ حکم ایک خفیہ سرکاری اشاعت نمبر / 2016// / 323232 کے ذریعے جاری کیا گیا تھا ، جس میں ترک حکومت نے جنرل اسٹاف کو دوحا میں فوجی اڈے کو برقرار رکھنے اور قطر میں فوج اور فوجی سازو سامان رکھنے کی اجازت دی تھی۔

اس سرکلر میں 25 اپریل 2016 کو ترک کابینہ کی منظوری بھی شامل تھی۔ اس کے بعد ترک فوج نے قطر میں فوجی دستوں کی تعیناتی کے کام اور کام انجام دیئے۔

جاسوسی اور نگرانی کی اجازت

خفیہ دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ معاہدہے کے آرٹیکل 19 میں ترکی کی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ افواج کے لیے قطر میں مصروفیت کے قواعد طے کرے ، انٹلیجنس اور نگرانی کی سرگرمیاں کرے ، اور قطری حکام کے ساتھ ترجیحی کارروائیاں ، منصوبہ بندی اور قطر فوج کے ساتھ مل کر دیگر عسکری نوعیت کے آپریشن انجام دے۔
اس مینڈیٹ کے تحت ترک جنرل اسٹاف قطر میں لائے جانے والے فوجی سازوسامان اور گولہ بارود کی اقسام کی چھان بین کرسکتا ہے۔ قطر میں ترک افواج کی حفاظت کو یقینی بنانے کےلیے بھی ترکی کو ہر قسم کی کارروائی کی آزادی ہے۔

قطر میں ترکی کے فوجی مشن میں توسیع

یہ بات قابل ذکر ہے کہ ترکی اور قطر نے ایک جامع فوجی معاہدہ کر رکھا ہے۔ ترکی نے دوحا میں ایک فوجی اڈہ قائم کیا ہے جہاں ترک بری فوج کو تعینات کیا گیا ہے۔ اب ترکی نے قطر میں موجود اپنے اڈے میں نیوی اور فضائیہ کے دستوں کو تعینات کرنے فوجی مشن کو وسعت دینے کا بھی ارادہ کیا ہے۔

مزید برآں ترک صدر رجب طیب اردوآن نے 25 نومبرسنہ 2019ء کو قطر کا دورہ کیا اور قطر اور ترکی کے درمیان مشترکہ افواج کی مشترکہ کمان 'کیو ٹی سی جے ایف' سے خطاب کیا جس میں انہوں نے دونوں ممالک کے مابین دوطرفہ تعلقات کی بات کرتے ہوئے فوجی اور دفاعی تعلقات کو ریڑھ کی ہڈی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ترکی قطر کی سلامتی کو اپنی سلامتی کے مترادف خیال کرتا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق اس وقت دوحا میں تعینات ترک فوجیوں کی تعداد 2800 ہے۔