.

غزہ سے 3 راکٹ داغے جانے پر اسرائیلی فوج کی بھرپور جوابی کارروائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج نے جمعے کے روز ایک اعلان میں بتایا ہے کہ اس نے غزہ پٹی میں مسلح عناصر کے ٹھکانوں کو "وسیع پیمانے" پر فضائی حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق یہ کارروائی مسلح فلسطینیوں کی جانب سے اسرائیل پر تین راکٹوں کے داغے جانے کے کچھ دیر بعد کی گئی۔ مذکورہ تین راکٹوں میں سے دو کو فضا میں تباہ کر دیا گیا۔

العربیہ اور الحدث نیوز چینلوں کے نمائندے کے مطابق راکٹوں کے حملے سے بچنے کی کوشش کے دوران ایک یہودی آبادکار خاتون اور اس کی بیٹی زخمی ہو گئی ، بچی کی حالت نازک ہے۔ راکٹ کے دھماکے کے نتیجے میں صحرائے نقب میں سیپیر کالج میں آگ بھڑک اٹھی۔

فلسطینی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی جنگی طیاروں نے جمعے کو علی الصبح غزہ پٹی کے جنوبی شہر رفح پر فضائی حملے کیے۔ اسرائیلی طیاروں نے رفح کے مغرب میں زرعی اراضی کو سات میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ کارروائی میں بھاری مادی نقصان ہوا تاہم کسی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔

حالیہ چند ماہ کے دوران غزہ پٹی میں نسبتا خاموشی دیکھی جا رہی تھی۔ مصر اور اقوام متحدہ کے وساطت کاروں نے اسرائیل اور حماس تنظیم کے درمیان غیر سرکاری جنگ بندی کو سپورٹ کرنے کے لیے کام کیا۔

حماس تنظیم نے راکٹ داغنے کے عمل کو لگام دی اور سرحدی پٹی پر ہفتہ وار احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ روک دیا۔ اس کے مقابل اسرائیل نے غزہ پٹی کے محاصرے میں نرمی کا مظاہرہ کیا۔ یہ محاصرہ 2007 میں حماس تنظیم کے اقتدار سنبھالنے کے بعد غزہ پٹی پر لاگو کیا گیا تھا۔

حماس تنظیم اور فلسطینی اتھارٹی دونوں ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کو یکسر مسترد کر چکے ہیں۔ اس منصوبے میں اسرائیل کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ مغربی کنارے کے اندر غور اردن کی جانب تمام یہودی بستیوں کو ضم کر لے۔ منصوبے میں فلسطینیوں کے لیے غزہ پٹی ، مغربی کنارے کے کچھ حصوں اور اسرائیل میں بعض کم آباد علاقوں پر فلسطینیوں کو محدود اقتدار کی پیش کی گئی ہے۔ اس کے مقابل اسرائیل نے شرائط کی طویل فہرست تیار کر رکھی ہے۔