.

انقرہ قصّہِ پارینہ بن جانے والے استعماری مفروضوں کو پھر سے جنم دے رہا ہے : قرقاش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور انور قرقاش نے باور کرایا ہے کہ تُرک ذمے داران کی جانب سے خلیجی ممالک اور ان کی قیادت کے حوالے سے مسلسل سطحی سیاسی زبان کا استعمال "افسوس ناک" ہے۔

اتوار کے روز ٹویٹ میں قرقاش کا کہنا تھا کہ تُرک شخصیات ایسی حقیقت پر پردہ ڈالنے کے لیے کوشاں ہیں جس کو چھپایا نہیں جا سکتا ... وہ یہ کہ انقرہ ہی عربوں کے معاملے میں مداخلت کر رہا ہے اور اُن استعماری مفروضوں کو پھر سے جنم دے رہا ہے جو قصہِ پارینہ بن چکے ہیں۔

اس سے قبل قرقاش نے دسمبر میں اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا تھا کہ "ہمیں یہ سوال کرنے کا حق رکھتے ہیں کہ پڑوسی ممالک کے ساتھ مسائل کو صفر تک پہنچانے سے متعلق وہ منصوبہ کہاں گیا جس کا ترکی کی خارجہ پالیسی نے دعوی کیا تھا ؟"۔

ترکی نے احمد داؤد اولو کے وزارت عظمی کا منصب سنبھالنے کے بعد 2014 سے 2016 کے درمیانی عرصے میں پڑوسی ممالک کے ساتھ "مسائل کو نقطہ صفر پر پہنچانے" کے منصوبے اور بحرانات پیدا ہونے کے مقابل مفادات کے تبادلے کا اعلان کیا تھا۔

یاد رہے کہ انقرہ نے دسمبر 2019 میں ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کی زبانی اعلان کیا تھا کہ وہ طرابلس میں وفاق حکومت کی ملیشیاؤں کی معاونت کے لیے فوجی مداخلت کے واسطے تیار ہے۔ اس مداخلت کو بین الاقوامی سطح پر مذمت کا سامنا کرنا پڑا۔