.

شام میں ترک فوجی قافلوں کی آمد کے بعد انقرہ اور ماسکو میں کشیدگی میں اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے تین فوجی قافلے کفر لوسین سرحدی گذرگاہ سے شام کے علاقے میں داخل ہوگئے ہیں اور وہ باغیوں کے زیر قبضہ شمال مغربی صوبہ ادلب اور اس سے متصل صوبہ حلب کے علاقوں کی جانب رواں دواں ہیں۔ان فوجی قافلوں کی آمد کے بعد ترکی اور روس کے درمیان نئی کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق کے مطابق ترکی کا پہلا فوجی قافلہ چالیس ٹینکوں ، بکتر بند گاڑیوں ، سفری گاڑیوں اور فوجی اور لاجسٹک آلات پر مشتمل ہے۔

رصد گاہ کے مطابق یہ تینوں فوجی قافلے ادلب اور حلب کی جانب جارہے ہیں۔اس دوران میں یہ اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ ترکی حلب اور للذاقیہ کے درمیان واقع شاہراہ پر فوجی تعینات کرے گا۔اس کا یہ اقدام روس کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کا مظہر ہے۔ ترکی اور روس دونوں شامی تنازع کے متحارب فریقوں کی حمایت کررہے ہیں۔ روس صدر بشارالاسد کا حامی ہے اور ترکی شامی باغیوں کا حامی ہے۔

شام پر روس کے فضائی حملے

صوبہ حلب کے جنوب مغرب میں واقع ایک قصبے پر روس کے فضائی حملوں کے بعد آوازیں سنی گئی ہیں۔رصدگاہ کے مطابق ترکی کا پہلا فوجی قافلہ اسی علاقے کی جانب آیا تھا۔روس کے فضائی حملوں میں نو شہری ہلاک ہوگئے ہیں۔ ان میں سات ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔

ترکی کی اس وقت ادلب کے اردگرد نگرانی کے لیے بارہ چوکیاں قائم ہیں۔یہ ترکی کے روس اور ایران کے ساتھ 2017ء میں طے شدہ ایک سمجھوتے کے تحت قائم کی گئی تھیں۔ان میں بعض کا اس وقت شامی فورسز نے گھیراؤ کررکھا ہے۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے گذشتہ جمعہ کو خبردار کیا تھا کہ ان کا ملک ادلب میں لڑائی رکوانے کے لیے فوجی کارروائی کرسکتا ہے۔انھوں نے روس پر ادلب میں لڑائی رکوانے کے لیے سمجھوتے کی خلاف ورزی کا الزام عاید کیا تھا لیکن روس نے اس کی تردید کی تھی۔

ادلب اور حلب کے مغرب میں گذشتہ ایک ہفتے کے دوران میں لڑائی میں اسد نواز 205جنگجو ہلاک ہوئے ہیں جبکہ حکومت مخالف 220 جنگجو مارے گئے تھے۔

شامی فوج نے اسی ہفتے روس کی فضائی مدد سے باغیوں کے زیر قبضہ شمال مغربی علاقے کی جانب نمایاں پیش قدمی کی ہے اور اس نے صوبہ ادلب میں واقع شہر معرۃ النعمان پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔اس کے علاوہ دمشق اور حلب کے درمیان واقع مرکزی شاہراہ کو بھی محفوظ بنا لیاہے۔

شام کا شمال مغربی علاقہ ہی اس وقت باغی گروپوں کے زیر قبضہ رہ گیا ہے۔اس میں صوبہ ادلب اور اس سے متصل صوبہ حلب کے علاقے شامل ہیں۔ماضی میں باغیوں کے زیرتسلط آنے والے باقی تمام علاقے صدر بشارالاسد کی فوج نے روس اور ایران کی فوجی مدد سے واپس لے لیے ہیں۔

اب شامی فوج ایک اور شہر سراقب کی جانب پیش قدمی کررہی ہے۔اگر اس کا اس پر بھی دوبارہ قبضہ ہوجاتا ہے تو معرۃ النعمان کے بعد یہ دوسرا بڑا تزویراتی شہر ہوگا جس پر شامی نظام کی عمل داری قائم ہوجائے گی۔

کریملن نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ روس ادلب میں اپنی ذمے داریوں کی مکمل پاسداری کررہا ہے لیکن اس کو شامی حکومت کی فورسز اور روس کے حمیمیم میں واقع ائیربیس پر باغی جنگجوؤں کے حملوں پر گہری تشویش لاحق ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں