.

لبنان میں نئی حکومت کے خلاف عوامی احتجاج کا سلسلہ جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان میں ہزاروں شہریوں نے ہفتے کے روز دارالحکومت بیروت اور طرابلس شہر میں سڑکوں پر آ کر نئی حکومت کے خلاف احتجاجی ریلیاں نکالیں۔ مظاہرین نے حسان دیاب کی سربراہی میں تشکیل پانے والی حکومت کو مسترد کرتے ہوئے باور کرایا کہ نئی حکومت کو عوام کی حمایت حاصل نہیں۔

گذشتہ ماہ شکیل پانے والی نئی حکومت ،،، کئی ہفتوں تک جاری رہنے والے سیاسی جمود اور ملک بھر میں عوامی احتجاج کے بعد عمل میں آ سکی ہے۔ لبنان کو اس وقت غیر معمولی نوعیت کے اقتصادی بحران کا سامنا ہے۔

احتجاج کرنے والے لبنانیوں کا موقف ہے کہ نئی حکومت اُن روایتی سیاسی جماعتوں کی کڑی ہے جنہیں عوام نے بدعنوانی کا ذمے دار ٹھہرایا ہے۔

ہفتے کے روز بیروت اور طرابلس کی سڑکوں پر احتجاجی ریلیوں میں شریک افراد نے بینرز اٹھا رکھے تھے۔ ان بینروں پر بدعنوانی کی مذمت اور نئی حکومت پر عدم اعتماد سے متعلق عبارتیں تحریر تھیں۔

مظاہرے میں شریک ایک شخص نے مجمع کی جانب سے مشترکہ بیان پڑھ کر سنایا۔ بیان میں کہا گیا کہ "ہم آج یہاں ہیں اور ہر روز ہوں گے ... یہ کہنے کے لیے کہ ہمیں اعتماد نہیں"۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مظاہرین اُن لوگوں کو اب ہر گز کوئی موقع نہیں دیں گے جنہوں نے عوام کے خواب چکنا چور کیے، انہیں غربت میں دھکیلا، انہیں ہجرت پر مجبور کیا اور ان کی تذلیل کی"۔

مظاہرین نے دھمکی دی کہ وہ حکمراں طبقے کے خلاف دباؤ ڈالنے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

مظاہرین نے بیروت کے وسط میں پہنچنے سے قبل مرکزی بینک، وزارت خزانہ اور لبنان کے بینکوں کی ایسوسی ایشن کے دفاتر پر رک کر احتجاج کیا۔

ادھر لبنان کے شمالی شہر طرابلس میں عوامی ریلی کے شرکاء احتجاج کے لیے النور اسکوائر پر اکٹھا ہوئے۔ مظاہرین ملک میں جاری اقتصادی بحران کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔

لبنان کے جنوبی شہر صور میں بھی مظاہرین نے ریلیاں نکالیں۔ یہ شہر سیاسی جماعت "امل موومنٹ" کا گڑھ شمار ہوتا ہے۔ امل موومنٹ کے سربراہ لبنانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری ہیں۔

لبنان کو درپیش سنگین اقتصادی بحران کے سبب مقامی کرنسی (ليرہ) کو شدید گراوٹ کا سامنا ہے۔ اس وقت ملک کی بلیک مارکیٹ میں ایک امریکی ڈالر 2100 لبنانی لیرہ میں فروخت ہو رہا ہے۔ بلیک مارکیٹ کا یہ نرخ سرکاری سطح پر مقررہ قیمت سے 46% زیادہ ہے۔ سرکاری سطح پر ایک ڈالر کی قیمت 1508 لبنانی لیرہ مقرر کی گی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں