.

ادلب پر شامی فوج کی گولہ باری میں ترکی کے 4 فوجی ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کی وزارت دفاع نے پیر کے روز اعلان میں بتایا ہے کہ شام کے صوبے اِدلب میں بشار کی فوج کی گولہ باری میں 4 تُرک فوجی ہلاک اور 9 زخمی ہو گئے۔

وزارت دفاع کے بیان کے مطابق ترکی کی فوج نے حملے کا جواب دیتے ہوئے مذکورہ صوبے میں "دشمن کے اہداف" کو تباہ کر دیا۔

بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ بشار حکومت کی فوج کو ترکی کے فوجی ٹھکانوں کے بارے میں پیشگی مطلع کر دیا گیا تھا تاہم اس کے باوجود بشار کی فوج نے گولہ باری کی۔

بشار کی فوج اتوار کے روز ادلب کے جنوب مشرقی دیہی علاقے میں داخل ہو کر تزویراتی اہمیت کے حامل شہر سراقب کے بہت نزدیک پہنچ گئی۔ اس سے قبل بشار کی فوج نے سراقب اور اس کے اطراف دیہی علاقوں پر جنونی نوعیت کی بم باری کی۔ اس دوران روسی طیاروں کی جانب سے حلب کے دیہی علاقوں پر شدید فضائی حملے کیے گئے۔

دوسری جانب شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد نے اتوار کے روز بتایا کہ ترکی کی فوج نے حلب اور لاذقیہ کے درمیان ہائی وے (M4) کو فوجی علاقہ قرار دیا ہے۔ یہ روس کے ساتھ ترکی کی کشیدگی کی جانب واضح اشارہ ہے۔

المرصد نے اتوار کی شام کفرلوسین کی سرحدی گزر گاہ کے راستے ترکی کے 5 فوجی قافلوں کے داخل ہونے کی تصدیق کی۔ بکتربند گاڑیوں، فوجیوں کی بسوں اور فوجی ٹرکوں پر مشتمل یہ قافلے حلب اور ادلب کے دیہی علاقوں کی جانب گامزن تھے۔

ترکی کے فوجی قافلوں کا ادلب اور حلب کا رخ کرنا روس کے لیے قابل قبول امر نہیں۔ روسی طیاروں نے اتوار کی صبح حلب کے جنوب مغربی دیہی علاقے میں کفر حلب گاؤں میں ترکی کے ایک فوجی قافلے کے اطراف بم باری کی۔

یاد رہے کہ شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والے ادارے المرصد کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ دو روز کے دوران شامی صدر بشار کی فوج اور اپوزیشن گروپوں کے درمیان ادلب میں ہونے والی لڑائی میں فریقین کے کم از کم 157 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

المرصد نے شام کے شمال مغربی علاقوں پر شامی اور روسی فضائی حملوں میں 9 عام شہریوں کے جاں بحق ہونے کی بھی تصدیق کی ہے۔