.

ایردوآن کا ادلب میں 35 شامی فوجیوں کی ہلاکت کا دعوی ، بشار حکومت کی تردید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں بشار حکومت کے زیر انتظام سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق ادلب کے دیہی علاقے میں ترکی کی فوج کی جوابی کارروائی میں شامی فوج کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

اس سے قبل ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے پیر کی صبح ایک پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ ادلب میں شامی فوج کی گولہ باری کا منہ توڑ جواب دیا گیا۔ ایردوآن نے دعوی کیا کہ جوابی کارروائی کے نتیجے میں شامی فوج کے تقریبا 35 ارکان مارے گئے۔

واضح رہے کہ ترکی کی وزارت دفاع نے پیر کے روز اعلان میں بتایا کہ شام کے صوبے اِدلب میں بشار کی فوج کی گولہ باری میں 4 تُرک فوجی ہلاک اور 9 زخمی ہو گئے۔ وزارت دفاع کے بیان کے مطابق ترکی کی فوج نے حملے کا جواب دیتے ہوئے مذکورہ صوبے میں "دشمن کے اہداف" کو تباہ کر دیا۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ بشار حکومت کی فوج کو ترکی کے فوجی ٹھکانوں کے بارے میں پیشگی مطلع کر دیا گیا تھا تاہم اس کے باوجود بشار کی فوج نے گولہ باری کی۔

ادھر روس کا بھی یہ کہنا ہے کہ ترکی نے شامی حکومتی فوج کے ٹھکانوں پر فضائی حملے نہیں کیے۔ روسی نیوز ایجنسی ٹاس کے مطابق ترکی کی فوج نے ادلب میں اپنی نقل و حرکت کے بارے میں آگاہ نہیں کیا تھا جس کے سبب اسے شامی حملے کا نشانہ بننا پڑا۔

شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ نے بتایا تھا کہ ملک کے شمال مغرب میں حماہ، لاذقیہ اور ادلب میں شامی فوج کے ٹھکانوں پر ترکی کی فضائی بم باری اور توپوں کی گولہ باری کے نتیجے میں 13 افراد ہلاک ہو گئے۔

ترکی صدر رجب طیب ایردوآن نے پیر کے روز یوکرین روانہ ہونے سے قبل استنبول کے ہوائی اڈے پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ "ہمارے ایف - 16 طیارے اور توپ خانے اس وقت اُن اہداف کو نشانہ بنا رہی ہیں جن کا تعین ہماری انٹیلی جنس کی جانب سے کیا گیا"۔ ایردوآن کے مطابق ترکی کے جوابی حملے میں شامی فوج کے 30 سے 35 ارکان مارے گئے۔

ترکی کے صدر نے روسی حکام کو مداخلت سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ "میں روسی حکام کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ یہاں ہمارا محور آپ لوگ نہیں بلکہ شامی حکومت ہے لہذا آپ ہمارے کام میں رکاوٹ نہ ڈالیں"۔ ایردوآن کا مزید کہنا تھا کہ "ہم اپنے فوجیوں کی ہلاکت پر خاموش نہیں رہ سکتے ،،، ہم اس حوالے سے احتساب کا مطالبہ جاری رکھیں گے"۔

یاد رہے کہ روس کے ساتھ سمجھوتے کی رُو سے ترکی ادلب میں نگرانی کے لیے اپنی 12 چیک پوسٹس قائم کر رہا ہے۔ حالیہ چند ہفتوں میں شامی فوج نے روس کی سپورٹ سے ادلب پر حملوں میں تیزی کر دی ہے۔