.

شامی حزبِ اختلاف کی فورسز کے ساتھ لڑائی میں ایران کی القدس فورس کے سینیرکمانڈر ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب کی بیرون ملک فوجی کارروائیوں کی ذمے دار القدس فورس کے ایک سینیر کمانڈراصغرپاشاپور شام کے شمال مغربی صوبہ حلب میں اسد مخالف فورسز کے ساتھ اتوار کو لڑائی میں ہلاک ہوگئے ہیں۔

ایران کے سرکاری میڈیا نے سوموار کو کمانڈر اصغرپاشاپور کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔سرکاری خبررساں ایجنسی اِریب کے مطابق وہ ان اوّلین کمانڈروں میں سے ایک تھے جو سب سے پہلے القدس فورس کے مقتول کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی کے ساتھ شام میں صدر بشارالاسد کی حمایت میں لڑنے کے لیے گئے تھے۔

میجر جنرل قاسم سلیمانی خود گذشتہ ماہ کے اوائل میں عراق کے دارالحکومت بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے نزدیک امریکا کے ایک ڈرون حملے میں ہلاک ہوگئے تھے۔

انھوں نے شامی صدر بشارالاسد کے خلاف حزبِ اختلاف کی مسلح بغاوت کو فرو کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا اور مسلح باغی گروپوں کے خلاف لڑائی کے لیے القدس فورس کے ہزاروں اہلکاروں کو شام میں بھیجا تھا۔ اس کے علاوہ مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے شیعہ نوجوانوں پر مشتمل ملیشیاؤں کو بھی منظم کیا تھا۔

ان میں پاکستانی اور افغان شیعہ ملیشیائیں بھی شامل تھیں۔ انھیں گذشتہ برسوں کے دوران میں ایران میں تربیت دے کر شام بھیجا جاتارہاہے۔ان شیعہ ملیشیاؤں اور ایرانی فوجیوں نے شامی فوج کے شانہ بشانہ باغیوں کے خلاف جنگ لڑی ہے اور ان کے زیر قبضہ علاقوں کو چھڑوانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ان کی اس فوجی مدد کی بدولت ہی شامی صدر بشارالاسد ملک کے بہت سے کھوئے ہوئے علاقوں پر دوبارہ اپنی عمل داری قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں اور اب صرف صوبہ ادلب اور حلب کے بعض حصوں پر ہی باغی گروپوں کا کنٹرول باقی رہ گیا ہے۔