.

مسافر طیارہ حادثہ : یوکرین کے صدر نے ایران کی ہرجانے کی پیش کش کو بہت کم قرار دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یوکرین کے صدر ولادی میر زیلینسکی کا کہنا ہے کہ اُن کا ملک ایران کی جانب سے ہرجانے کی اُس رقم پر راضی نہیں جس کی پیش کش تہران نے مسافر طیارے کے حادثے کا شکار ہونے والے یوکرینی شہریوں کے خاندانوں کو کی ہے۔ زیلینسکی کے مطابق یوکرین ہرجانے کی زیادہ رقم کے حصول کے واسطے کوشاں ہے۔

اتوار کے روز ایک ٹی وی انٹرویو میں یوکرین کے صدر نے واضح کیا کہ ایران نے ہر خاندان کو فوری طور پر 80 ہزار امریکی ڈالر دینے کی پیش کش کی ہے۔ صدر زیلینسکی کے مطابق یہ ہرجانہ بہت کم ہے اور ان کا ملک زیادہ بڑی رقم کے لیے دباؤ ڈالے گا۔

یاد رہے کہ گذشتہ ماہ 8 جنوری کو ایران کے ایک بیلسٹک میزائل نے یوکرین کے مسافر طیارے کو مار گرایا تھا۔ یوکرین کے دارالحکومت کیف جانے والے طیارے کو تہران سے اڑان بھرنے کے کچھ دیر بعد نشانہ بنایا گیا۔

ایران نے اعتراف کیا تھا کہ اس کی افواج نے یوکرین کے ایک مسافر طیارہ غلطی سے مار گرایا۔ اس سے قبل ابتدائی طور پر تہران حکومت حادثے میں اپنے کسی بھی کردار کا انکار کرتی رہی۔

اس اندوہ ناک حادثے میں طیارے میں سوار تمام 176 افراد ہلاک ہو گئے جن میں 11 کا تعلق یوکرین سے ہے۔

یوکرین کے صدر ولادی میر زیلینسکی کے مطابق ان کا ملک ایران کی جانب سے طیارے کے دونوں بلیک بکسوں کے حوالے کیے جانے کا منتظر ہے۔