.

سعودی عرب میں رقوم کی منتقلی کےلیے 'اسمارٹ بیگ' متعارف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی مانیٹری ایجنسی "ساما" نے رقوم کی منتقلی کے لیے اسمارٹ بیگ استعمال کرانے کا نیا طریقہ کار اختیار کیا ہے۔ اس اسمارٹ بیگ کی خصوصیت یہ ہے کہ اگر اسے کوئی غیرمتعلقہ شخص کھولنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ خود کار طریقے سے ٹریکنگ میں مدد فراہم کرنے کے ساتھ اس میں موجود رقوم کو تلف کیا جا سکتا ہے تاکہ رقوم کسی غیرمتعلقہ شخص کے ہاتھ نہ لگے۔

خیال رہے کہ 'ساما' کی طرف سے ایک مہم چلائی گئی ہے جس میں شہریوں کو رقوم کی منتقلی کے لیے اسمارٹ بیگ کے استعمال کی ترغیب دی گئی ہے۔ اسمارٹ بیگ کے ذریعے رقوم کی منتقلی میں سیکیورٹی سروسز کے لیے استعمال ہونے والی روشنائی اور فنگر پرنٹ کا طریقہ کار استعمال کیا جاتا ہے۔

"سیکیورٹی روشنائی فنگر پرنٹ"

مانیٹری ایجنسی"ساما" نے واضح کیا کہ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ رقوم کی منتقلی کے دوران اس کی چوری روکی جا سکے۔ اسمارٹ بیگ غیر قانونی طریقے سے کھولے کی کوشش، چوری ، ڈکیتی ، یا اسلحے کے اس کا راستہ تبدیل کرنے کی کوشش کے دوران سیکیورٹی انکجیٹ کی مدد سے ایسی کسی بھی کوشش کو ناکام بنایا جا سکتا ہے۔ اسمارٹ بیگ میں موجود رقم مخصوص روشنائی اور فنگر پرنٹ ہی کے ذریعے نکالی جا سکتی ہے۔ اگر اسے غیرمجاز طریقےسے نکالنے کی کوشش کی جائے تو وہ اسمارٹ منی بیگ خود ہی رقوم کو تلف کرسکتا ہے۔

رقوم کی منتقلی کے لیے اسمارٹ بیگ کا استعمال نہ صرف سعودی عرب میں ہونے جا رہا ہے بلکہ اس سے قبل یہ طریقہ کار کئی ممالک میں اپنایا گیا ہے۔