.

لبنانی میڈیا مالی مشکلات سے دوچار،تاریخی اخبارڈیلی اسٹار کی اشاعت عارضی معطل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے سب سے مقبول اورتاریخی انگریزی روزنامہ ڈیلی اسٹار نے اپنا طباعتی ایڈیشن عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

لبنان کی قومی معیشت کے بحران کا شکار ہونے سے میڈیا کے ادارے بھی مالی طور پر بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور انھیں گذشتہ کئی ماہ سے مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ڈیلی اسٹار گذشتہ مہینوں سے اپنے عملہ کو تن خواہیں ادا نہیں کرپا رہا ہے جس کے خلاف عملہ نے ہڑتال کررکھی ہے۔

ڈیلی اسٹار نے اپنا طباعتی ایڈیشن معطل کرنے کے اعلان کے ساتھ ایک تفصیلی بیان جاری کیا ہے جس میں ادارے کو درپیش مالی مشکلات کا تذکرہ کیا ہے۔اس نے کہا ہے کہ’’ 2019ء کی آخری سہ ماہی اور گذشتہ ماہ جنوری میں اشتہارات کی مد میں آمدن میں نمایاں کمی واقع ہوئی تھی۔اس سے خراب مالی صورت حال اور بھی ابتر ہوگئی ہے۔اس پر مستزاد یہ کہ ڈیجیٹل میڈیا کی ترقی سے لبنانی اخبارات دباؤ میں آگئے ہیں۔(اداروں کی) اشتہارات کی مد میں اخراجات میں کمی سے اقتصادی زبوں حالی کو مزید تقویت ملی ہے۔‘‘

اخبار کے اس اعلان پر کئی ایک صحافیوں نے اپنی مایوسی کا اظہار کیا ہے۔اس کے بعد لبنان میں انگریزی زبان میں چھپنے والا کوئی اور روزنامہ نہیں رہ گیا ہے۔

ڈیلی اسٹار کے ساتھ فیچر رائٹر کے طور پر وابستہ فنبار اینڈرسن نے ایک ٹویٹ میں لکھا ہے:’’ یہ ایک افسوس ناک خبر ہے۔جب میں پیشہ صحافت میں داخل ہوا تو اسٹار نے مجھے ناقابل یقین مواقع مہیا کیے۔امید ہے کہ وہ (اس مشکل دور سے) جلد نکل آئے گا۔‘‘

اخبار کے سابقہ ملازم صحافی جیکب بوسوال کا کہنا ہے کہ ’’لبنان کے واحد انگریزی روزنامے کی اشاعت کا خاتمہ ایک تاریخی نقصان ہے لیکن افسوس تو یہ ہے کہ یہ کوئی حیران کن امر نہیں۔‘‘

انھوں نے مزید کہا:’’ یہ کوئی سربستہ راز نہیں کہ اخبار حالیہ برسوں کے دوران میں نمایاں مالیاتی دباؤ کا شکار ہوا ہے۔اس کے نتیجے میں مایوسی کا شکار عملہ کے ارکان اس کو چھوڑ کر چلے گئے۔اب صرف آن لائن اشاعت ہی ڈیلی اسٹار کی شہرت اور نام کو بچانے کا واحد راستہ تھا۔ یہ ایک اچھا اور محفوظ راستہ ہے۔‘‘

دسمبر میں اس اخبار سے وابستہ کئی ایک معروف صحافی کئی ماہ سے تن خواہوں کی عدم ادائی کے بعد ساتھ چھوڑ گئے تھے۔بعض کو ادارے نے خود فارغ خطی دے دی تھی۔حکومتی امور کے ماہر صحافی بنجامین ریڈ کو احتجاجی ملازمین کے ساتھ یک جہتی کے اظہار پر چار دسمبر کو ادارے سے فارغ کردیا گیا تھا۔ان کے ساتھ تیمور آزری سمیت بہت سے صحافی بھی مستعفی ہوگئے تھے۔

لبنان کے سابق وزیراعظم سعد الحریری کے ملکیتی میڈیا اداروں کو بھی مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ان کے مستقبل ٹی وی کو گذشتہ سال ستمبر میں بند کردیا گیا تھا اور اس کے تین سو ملازمین بے روزگار ہوگئے تھے۔اس کے علاوہ 2019ء کے آخر میں ان کا ملکیتی اخبارالمستقبل بھی بند کردیا گیا تھا۔

یادرہے کہ ڈیلی اسٹار نے 1952ء میں اپنی اشاعت کا آغاز کیا تھا۔اس کا دعویٰ ہے کہ وہ عرب دنیا کا انگریزی زبان میں شائع ہونے والا پہلا اخبار تھا۔اخبار کے مطابق اب اس کی ویب سائٹ اور سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز اپنی اشاعت جاری رکھیں گے۔