.

عراق: ذی قار میں حکومت کو ایک ہفتے کی مہلت، بغداد میں ملین مارچ کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے جنوبی صوبے ذی قار میں مظاہرین نے نگراں حکومت کو ایک ہفتے کی مہلت دی ہے۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ اس دوران عوامی ریفرینڈم کے ذریعے ایک خود مختار وزیراعظم کا چُناؤ عمل میں لایا جائے جو سیاسی جماعتوں سے تعلق نہ رکھتا ہو۔

صوبے میں سرگرم عوامی احتجاجی تحریک کے متعدد کارکنان نے دھمکی دی ہے کہ اگر خود مختار وزیراعظم کے چُناؤ سمیت مظاہرین کے مطالبات پورے نہ ہوئے تو دارالحکومت بغداد بالخصوص حساس ترین علاقے گرین زون کے داخلی راستوں پر ملین مارچ کیا جائے گا۔ گرین زون میں غیر ملکی سفارت خانے، سرکاری ادارے اور وزارتوں کی عمارتیں واقع ہیں۔

عراق میں گذشتہ دو روز کے دوران ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں پرتشدد واقعات دیکھنے میں آئے۔ اس دوران نجف شہر میں مظاہرین کی مقتدی الصدر کے کارکنان اور حامیوں کے ساتھ شدید جھڑپیں ہوئیں۔ یہ تصادم محمد توفیق علاوی کی سربراہی میں نئی حکومت کی تشکیل کے لیے حمایت کے پس منظر میں ہوا۔ علاوی کو عراقی صدر نے وزارت عظمی کے منصب کے لیے نامزد کیا ہے۔

نجف میں طبی اور سیکورٹی ذرائع نے جمعرات کے روز بتایا کہ شہر میں ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم 8 افراد ہلاک ہو گئے۔ یہ جھڑپیں مقتدی الصدر کے حامیوں کی جانب سے مظاہرین کے خیموں پر دھاوا بولنے کے بعد شروع ہوئیں۔ رائٹرز ایجنسی کے مطابق پرتشدد واقعات میں کم از کم 20 افراد زخمی بھی ہوئے۔

سیکورٹی ذرائع کے مطابق مقتدی الصدر کے حامی "نیلی ٹوپی والوں" کے نام سے جانے جاتے ہیں کیوں کہ وہ عموما سروں پر نیلی ٹوپیاں رکھتے ہیں۔ ان افراد نے دھاوے کی جگہ سے زبردستی مظاہرین کو ہٹانے کی کوشش۔ اس کے سبب فریقین میں جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ نیلی ٹوپیوں والوں نے مظاہرین کے خیموں پر آواز والے بم پھینکے۔ اس دوران براہ راست فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں اور کچھ ہی دیر میں آٹھ افراد اپنی جانوں سے ہاتھ ھو بیٹھے۔

نیلی ٹوپیوں والوں نے کربلا میں بھی مظاہرین پر حملہ کیا۔ اس کے نتیجے دھرنا دینے والے متعدد افراد زخمی ہو گئے۔

ادھر گذشتہ ہفتے نئی حکومت کی تشکیل کے واسطے نامزد عراقی وزیراعظم محمد توفیق علاوی نے پرتشدد واقعات کی مذمت کی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے مدت پوری کرنے والی موجودہ کابینہ (نگراں حکومت) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ "مظاہرین کو تحفظ" فراہم کرے۔

مقتدی الصدر نے گذشتہ ہفتے اپنے کارکنان اور حامیوں پر زور دیا تھا کہ وہ عراق کی سڑکوں پر معمولات زندگی بحال کرنے میں حکام کی مدد کریں۔ الصدر کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں دھرنوں کے سبب بند کیے گئے تمام راستوں کو خالی کرایا جائے تا کہ اسکولوں اور دفاتر میں پھر سے کام شروع ہو سکے۔ کئی ماہ سے جاری احتجاج کے دوران اب تک مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے بیچ جھڑپوں میں 500 کے قریب افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔