.

دمشق حلب ہائی وے پر شامی فوج کے مکمل کنٹرول میں صرف 30 کلو میٹر حائل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں بشار کی فوج نے اپنے ہمنوا مسلح عناصر کی سپورٹ کے ساتھ حلب کے جنوبی دیہی علاقوں کی جانب پیش قدمی کی۔ یہ علاقے ادلب صوبے کے ساتھ انتظامی حدود کے قریب واقع ہیں۔ اس دوران بشار کی فوج حلب کے جنوب میں کئی علاقوں کو واپس لینے میں کامیاب ہو گئی۔

اس طرح بشار کی فوج نے ادلب صوبے کی انتظامی حدود کے اندر دمشق - حلب بین الاقوامی ہائی وے M5 کے تمام حصوں پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ گویا اس کا مطلب ہوا کہ مذکورہ ہائی وے کا صرف 30 کلو میٹر کا حصہ اب بھی شامی اپوزیشن کے جنگجوؤں کے ہاتھوں میں ہے۔

دمشق صوبے سے حلب صوبے تک کا سڑک کا فاصلہ تقریبا 356 کلو میٹر ہے۔

حلب کے جنوبی دیہی علاقوں میں شامی اپوزیشن اور دیگر گروپوں کی بشار کی فوج اور اس کی ہمنوا ملیشیاؤں کے ساتھ لڑائی جاری ہے۔ اس دوران فریقین کے بیچ شدید گولہ باری اور نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔

ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاوش اولو نے جمعے کے روز اعلان میں بتایا ہے کہ روس کا ایک وفد ہفتے کے روز ترکی پہنچے گا۔ وفد کی آمد کا مقصد شام کے شمال مغربی صوبے ادلب میں حملوں کو روکنے اور انسانی المیے کے وقوع کے بغیر کسی حل تک پہنچنے کے لیے بات چیت کرنا ہے۔

بشار حکومت کی فوج جمعرات کے روز روس کی قیادت میں سراقب شہر میں داخل ہو گئی تھی۔ یہ پیش رفت شام میں اپوزیشن گروپوں کے تزویراتی اہمیت کے حامل آخری گڑھ پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش ہے۔

یاد رہے کہ حلب کو دارالحکومت دمشق سے ملانے والا بین الاقوامی ہائی وے شام میں مختلف متحارب فریقوں کے لیے بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ سب ہی اس بات کے لیے کوشاں ہیں کہ کئی برس تک جاری بندش کے بعد اس راستے کو دوبارہ کھول دیا جائے۔ اس راستے کی مجموئی لمبائی تقریبا 432 کلو میٹر ہے۔

یہ ملک کی سب سے طویل شاہراہ ہے اور اسے درآمدات اور برآمدات کے لیے بنیادی راستہ شمار کیا جاتا ہے۔ یہ سڑک شام کے اہم ترین شہروں کو ایک دوسرے سے ملاتی ہے۔ شمال میں اقتصادی دارالحکومت حلب سے شروع ہو کر درمیان میں حُماہ اور حمص سے گزر کر پھر جنوب میں دمشق اور درعا کے راستے شام اور اردن کی سرحد تک پہنچتی ہے۔ اسی واسطے اس راستے کو اقتصادی لحاظ سے بڑی اہمیت حاصل ہے۔

اقتصادی ماہرین کے مطابق M5 ہائی وے کے دوبارہ کھولے جانے سے دمشق اور حلب کے درمیان فاصلہ تقریبا 175 کلو میٹر کم ہو جائے گا۔ مزید یہ کہ روزانہ کی بنیاد پر تجارتی تبادلے کی سرگرمیوں میں اضافہ ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ یہ پیش رفت تعمیر نو کے عمل اور سرمایہ کاری میں بھی کردار ادا کرے گی۔ اس لیے کہ راستوں کا محفوظ اور سرگرم ہونا سیاسی اور اقتصادی استحکام کے لیے ضروری ہے۔ اس طرح تعمیر نو کے لیے مطلوب بنیادی مواد اور ساز و سامان بھی عبور ہو سکے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مذکورہ ہائی وے کے کھلنے کے بعد شام اور اردن کے درمیان تجارت کا حجم بھی بڑھ جائے گا بالخصوص جب کہ اردن کے ساتھ سرھدی گزر گاہ گزشتہ سال اکتوبر میں کھول دی گئی تھی۔