.

عراق میں چار ماہ کے دوران 543 مظاہرین ہلاک ہوچکے: ہیومن رائٹس کمیشن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے انسانی حقوق ہائی کمیشن نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں‌بتایا ہے کہ گذشتہ اکتوبر سے پہلے روز شروع ہونے والے مظاہروں کے آغاز سےب تک عراق میں کم سے کم 543 مظاہرین ہلاک ہوچکے ہیں۔ ان میں 276 صرف بغداد شہر میں‌ ہلاک ہوئے۔ اس دوران نامعلوم افراد کی فائرنگ اور تشدد کے دیگر واقعات میں عراقی پولیس اور سیکیورٹی فورسز کے 17 ارکان بھی لقمہ اجل بن گئے۔

دوسری طرف عراق کی وزارت صحت کی طرف سے حکومت کی برطرفی کے لیے جاری مظاہروں میں ہونے والے جانی نقصانات کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

عراق میں انسانی حقوق ہائی کمیشن نے خاموشی توڑتے ہوئے ہلاکتوں کی تعداد بیان کی ہے۔

کمیشن نے حکومت پر عراق میں مظاہروں کے دوران ہونے والی ہلاکتوں، زخمیوں اور کریک ڈائون کے دوران گرفتار کیے گئے افراد کی تعداد چھپانے کا الزام عاید کیا گیا تھا۔

اقوام متحدہ کے مطابق مسلح گروہوں نے کے عناصر مظاہرین کے قتل اور اغوا میں ملوث ہیں۔

انسانی حقوق ہائی کمیشن کی رپورٹ کے مطابق احتجاج میں پیش پیش رہنے والے 22 کارکنوں کو گولیاں مار کر قتل کردیا گیا جب کہ 72 کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ پولیس کی تحویل میں ہیں۔

رپورٹ کے مطابق کریک ڈائون میں 2700 کارکنوں کو گرفتار کیا گیا جن میں سے 328 ابھی تک زیر حراست ہیں۔ خیال رہے کہ عراق کا دنیا بھر میں بدعنوان ممالک کی فہرست میں 16 واں‌نمبر ہے۔