.

اسرائیلی فوج نے فلسطین کی زرعی برآمدات بند کردیں،کشیدگی میں اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج نے اتوار کو اردن کے راستے فلسطین کی تمام زرعی برآمدات بند کردی ہیں۔

اسرائیلی فوج نے وزیردفاع نفتالی بینیٹ کی ہدایت کے بعد کہا ہے کہ وہ فلسطینیوں کی زرعی پیداوار کو اردن کے ساتھ واقع اپنی زمینی گذرگاہ کے ذریعے لے جانے کی اجازت نہیں دے گی۔غربِ اردن میں آباد فلسطینی صرف اس گذرگاہ کے ذریعے بیرونی دنیا کو اپنی زرعی پیداوار برآمد کے لیے بھیج سکتے ہیں۔

فلسطینی اتھارٹی نے کہا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے بیرون ملک برآمد کے لیے بھیجی گئی سبزیوں کو چیک پوائنٹس پرروک لیا ہے۔

فلسطین کی وزارت صحت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل کو گذشتہ سال آٹھ کروڑ 80لاکھ ڈالر مالیت کی سبزیاں برآمد کی گئی تھیں اور یہ غربِ اردن کی سبزیوں کی تمام برآمدات کا 68 فی صد تھیں۔

اسرائیل اور فلسطین کے درمیان یہ تجارتی بحران گذشتہ سال ستمبر سے جاری ہے۔ تب فلسطینی اتھارٹی نے اسرائیل سے بڑے گوشت کی درآمد بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ فلسطینی اتھارٹی نے اپنے اس فیصلے کا یہ جواز پیش کیا تھا کہ اسرائیل سے جو ایک لاکھ 20 ہزار مویشی درآمد کیے جاتے ہیں ، وہ اسرائیل خود کہیں اور سے درآمد کرکے بھیجتا ہے،اس لیے اب دوسرے ممالک سے براہ راست یہ جانور درآمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اس اقدام کا مقصد فلسطینی معیشت کا اسرائیل پر انحصار کم کرنا تھا۔

فلسطینی اتھارٹی کے اس اعلان کے بعد اسرائیل کے مویشیوں کے بیوپاریوں اور گلہ بانوں کا کاروبار ماند پڑگیا تھا اور انھوں نے اسرائیلی حکام پر اقدام کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔نفتالی بینیٹ نے اس کے جواب میں فلسطین سے گوشت اور دوسری زرعی مصنوعات کی درآمد پر پابندی عاید کردی تھی۔اس کے ردعمل میں فلسطینیوں نے اپنے بائیکاٹ کو مزید وسیع کردیا تھا اور اسرائیل سے سبزیاں ، پھل ، مشروبات اور پینے کا پانی درآمد کرنے پر پابندی عاید کردی تھی۔

اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان جاری اس تجارتی بحران کے نتیجے میں تشدد کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے اور طرفین میں کشیدگی میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرق اوسط امن منصوبہ کے اعلان کے بعد مزید شدت آئی ہے۔ فلسطینیوں نے گذشتہ ایک ہفتے کے دوران میں امریکی صدر کے مجوزہ امن منصوبے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔

گذشتہ جمعرات کی صبح ایک فلسطینی نے اسرائیلی فوجیوں کو گاڑی تلے کچل دیا تھا جس سے چودہ اسرائیلی فوجی زخمی ہوگئے تھے۔اس کے ردعمل میں غربِ اردن کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی فوجیوں نے فلسطینیوں کے ساتھ جھڑپوں کے دوران میں فائرنگ کی ہے جس سے چار فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

واضح رہے کہ اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان 1990ء کے عشرے میں اوسلو امن معاہدے پر دست خط کے بعد سے کشیدہ حالات کے باوجود تجارتی تعلقات برقرار رہے ہیں اور 2014ء میں امن مذاکرات کی معطلی کے باوجود ان کے درمیان زرعی اجناس اور مصنوعات کی دوطرفہ تجارت جاری رہی ہے۔