.

سعودی عرب میں دومۃ‌الجندل ونڈ انرجی پروجیکٹ نے عالمی ایوارڈ جیت لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے شمالی علاقے دومۃ الجندل میں ونڈ انرجی پروجیکٹ نے مقررہ وقت میں قابل تجدید توانائی کی بجلی تیار کرکے عالمی ایوارڈ اپنے نام کرلیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق دومۃ الجندل ونڈ انرجی پروجیکٹ نے سال 2019ء کے دوران قابل تجدید توانائی کا مشرق وسطیٰ اور افریقا کے خطے میں کم سے کم لاگت میں زیادہ سے زیادہ بجلی پیدا کرنے کا ریکارڈ قائم کرکے ایوارڈ اپنے نام کیا ہے۔

دومۃ الجندل ونڈ انرجی منصوبے میں ایک کلوواٹ بجلی تیار کرنے پر صفر اعشاریہ صفر 199 ڈالر کی لاگت آئی جب کہ منصوبے نے مقررہ مدت سے کم وقت میں 400 میگاواٹ بجلی کی تیاری کا اپنا ہدف بھی مکمل کرکے قابل تجدید توانائی کا نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی "ایس پی اے" کے مطابق ، یہ ایوارڈ سالانہ بین الاقوامی پروجیکٹ فنانس ایوارڈز (پی ایف آئی ایوارڈز) میں سے ایک ہے۔ یہ ایوارڈ وزارت توانائی میں قابل تجدید توانائی ترقی کے شعبے کے سربراہ انجینئر فیصل بن عبد اللہ الیمنی نے لندن میں منعقدہ ایک تقریب میں وصول کیا۔

خیال رہے کہ دومۃ الجند پروجیکٹ ملک میں متبادل توانائی کی ترقی کا پہلا منصوبہ ہے جو مملکت میں قومی قابل تجدید توانائی پروگرام کے فریم ورک کے تحت ہوا سے توانائی پیدا کرنے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔ یہ اپنی نوعیت کا سعودی عرب میں سب سے بڑا منصوبہ بھی ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس سے پہلے یہ ایوارڈ سکاکا شمسی پی وی پروجیکٹ نے جیتا تھا ، جسے قابل تجدید توانائی منصوبوں کے ترقیاتی مرکز نے بھی 2017 میں 300 میگاواٹ کی ٹارگٹ پیداواری صلاحیت کے ساتھ آگے بڑھایا تھا۔

قومی قابل تجدید توانائی پروگرام کا مقصد ریاست میں بجلی پیدا کرنے میں استعمال ہونے والے توانائی کے وسائل میں نمایاں اضافہ کرنا ہے۔ سکاکا سولر پی وی پروجیکٹ اور دومۃ الجندل ونڈ انرجی پروجیکٹ پروگرام اسی کا حصہ ہیں۔