.

شامی فوج کی ادلب میں باغی گروپوں سے لڑائی جاری،موٹروے کے نزدیک متعدد دیہات پر قبضہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی نظام کی فورسز شمالی شہر حلب اور دارالحکومت دمشق کے درمیان واقع اہم موٹروے (ایم 5) پر مکمل کنٹرول کے قریب ہے اور انھوں نے باغی گروپوں کے ساتھ لڑائی میں اس مرکزی شاہراہ کے نزدیک واقع متعدد دیہات پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔

شامی حکومت ایک عرصے سے باغیوں کے زیر قبضہ ایم 5 پر دوبارہ کنٹرول کے لیے کوشاں ہے۔یہ مرکزی شاہراہ شام کے ماضی میں معاشی گڑھ اور دوسرے بڑے شہرحلب کو دارالحکومت دمشق سے ملاتی ہے اور وہاں سے جنوب میں اردن کی سرحد تک جاتی ہے۔

اس شاہراہ پر شامی فوج کے کنٹرول کے بعد ایک مرتبہ پھر ملک کے شمالی اور جنوبی علاقوں کے درمیان ٹریفک کی آمد ورفت بحال ہوجائے گی اور اس طرح صدر بشارالاسد کی حکومت کو اپنی ڈوبتی معیشت کو بحال کرنے میں مدد ملے گی۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ شامی نظام کی فورسز نے گذشتہ کئی ہفتوں سے جاری مسلسل پیش قدمی کے بعد ایم 5 کا قریب قریب مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور اب صرف دو کلومیٹر کا علاقہ باغیوں کے زیر قبضہ رہ گیا ہے۔

تاہم اس علاقے میں تزویراتی اہمیت کا حامل شہر سراقب حزب اختلاف کی فورسز کے قبضے میں ہے اور شامی فوج اس شہر اور اس کے نواحی علاقوں پر تباہ کن بمباری کررہی ہے۔رصدگاہ کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ شامی فورسز نے برسرزمین نئی فتوحات حاصل کی ہیں اور اس نے موٹروے کے نزدیک متعدد دیہات پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

دریں اثناء شامی نظام نے خود بھی یہ اعلان کیا ہے کہ اس نے ادلب پر کنٹرول کے لیے اپنی مہم کے دوران میں 600 کلومیٹر سے زیادہ علاقے پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔شام کی مسلح افواج نے ایک بیان میں حالیہ دنوں میں متعدد دیہات اور قصبوں پر کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔