.

حوثی کیمرہ مین کی وڈیوز لڑائی کے لیے بچوں کی بھرتیوں کا ثبوت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں العربیہ اور الحدث نیوز چینلوں نے نئے شواہد حاصل کیے ہیں جن سے حوثی ملیشیا کی جانب سے بچوں کو بھرتی کرنا اور انہیں لڑائی کے محاذوں پر جھونک دینا ثابت ہوتا ہے۔

مذکورہ شواہد سے نہ صرف بچوں کے بلکہ فرقہ وارانہ بنیادوں پر بچیوں کے بھرتی ہونے کا بھی انکشاف ہوتا ہے۔

حوثی فوٹوگرافر ابو کرار الاکوع کے کیمرے سے بنائی گئی وڈیوز میں بچوں اور نوجوانوں کے لیے قبرستانوں کے دوروں کا انتظام واضح ہوتا ہے۔ اس دوران ان کے ذہنوں میں یمنی معاشرے کے خلاف فرقہ واریت پر مبنی معاندانہ عبارتوں کا زہر گھولا گیا۔

وڈیوز میں صرف بچوں کی موجودگی شامل نہیں بلکہ ان میں الزینبیات کے نام سے بچیوں کی شمولیت بھی نظر آتی ہے۔

کیمرے کی آنکھ نے بچوں کو بغیر ہتھیاروں کے لڑائی کے محاذوں پر ارسال کیے جانے کے مناظر بھی محفوظ کیے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد بچوں کو "جہادی ماحول" سے آشنا کرنا ہے۔

دوسری جانب یمنی وزیر اطلاعات معمر الاریانی نے باغی حوثی ملیشیا کی جانب سے بچوں کی بھرتی کی روش کو ،،، ایرانی نظام کی جانب سے پہلی خلیجی جنگ کے دوران بچوں کو جنگ کے ایندھن کے طور پر استعمال کیے جانے کے ساتھ جوڑا ہے۔

اتوار کے روز اپنی ٹویٹ میں الاریانی کا کہنا تھا کہ حوثیوں کا موت کا سفر پھول جیسے ننھے بچوں سے شروع ہوتا ہے .. ان کو اسکولوں کی کلاسوں اور ان کے گھروں سے اچک لیا جاتا ہے اور پھر "ثقافتی کورسز" کے نام پر ان کی برین واشنگ کی جاتی ہے .. اس دوران ننھے ذہنوں کو مسلکی اور شدت پسندانہ افکار سے آلودہ کیا جاتا ہے .. اس کے بعد انہیں یمنیوں سے لڑنے کے لیے موت کی بھٹی میں جھونک دیا جاتا ہے تا کہ یہ مذہبی جنونیت کی ماری ملیشیاؤں اور ایران کے ملاؤں کے کام آ سکیں۔

یمنی وزیر کے مطابق یہ سفر ان بچوں کی لاشوں کے بکسوں کی واپسی کی صورت میں اختتام پذیر ہوتا ہے۔

اس سے قبل یمن کی وزارت تعلیم حوثیوں کے زیر قبضہ صوبوں میں باغی ملیشیا کی جانب سے بچوں کی بھرتی کا سلسلہ جاری رکھنے کی پر زور مذمت کر چکی ہے۔ وزارت نے عالمی برادری سے اور انسانی حقوق اور بچوں کے تحفظ کے میدان میں مصروف عمل تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ حوثی ملیشیا کی ان کھلی خلاف ورزیوں کی مذمت کریں اور اس پر دباؤ ڈالیں۔ اس طرح بچوں کی بھرتی اور انہیں لڑائی میں جھونکے جانے کا عمل روکا جا سکے۔

یمن میں آئینی حکومت الزام عائد کرتی ہے کہ حوثی ملیشیا اب تک 30 ہزار بچوں کو بھرتی کر چکی ہے۔ انسانی حقوق کی مقامی اور بین الاقوامی تنظیموں کی رپورٹوں مییں تصدیق کی گئی ہے کہ حوثی ملیشیا نے یمن میں بچوں کے خلاف "جنگی جرائم" کا ارتکاب کیا ہے۔ یہ مقامی بین الاقوامی قوانین اور منشوروں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔