.

شام کے شمالی مغربی صوبہ ادلب میں اسدی فوج کے حملے میں پانچ ترک فوجی ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی فوج نے شمال مغربی صوبہ ادلب میں ترک فوج کی ایک چوکی پر حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں پانچ ترک فوجی ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے ہیں۔

ترکی کے نشریاتی ادارے این ٹی وی نے سوموار کو وزارت دفاع کےحوالے سے اطلاع دی ہے کہ شام کے شمال مغرب میں واقع علاقہ تفتناز میں اسدی فوج نے فوجی چوکی پر حملہ کیا ہے۔

ترکی نے ادلب کے اسی علاقے میں حال ہی میں اپنی بھاری کمک بھیجی ہے۔اس کا مقصد شامی حکومت کی فورسز کی ادلب میں حزبِ اختلاف کے گروپوں کے خلاف جاری پیش قدمی کو روکنا ہے۔ترک حکام کا کہنا ہے کہ ان کے فوجی شامی فورسز کے اس حملے کا جواب دے رہے ہیں۔

حزب اختلاف کے ایک ذریعے نے بتایا ہے کہ شامی فوج نے تفتناز میں ایک فوجی اڈے پر گولہ باری کی ہے۔عینی شاہدین نے ترکی کے ہیلی کاپٹروں کو اس شمال مغربی علاقے سے زخمیوں کو نکالتے ہوئے دیکھا ہے۔

شامی حزب اختلاف کے ایک کمانڈر نے بتایا ہے کہ باغی جنگجوؤں نے بھی سوموار کو سراقب کے نزدیک شامی فوج کے خلاف ترک فوج کی مدد سے ایک کارروائی شروع کی ہے۔ بعض عینی شاہدین نے شامی فوج کے اہداف پر ترکی کی گولہ باری کی بھی اطلاع دی ہے۔

شامی فوج کی ادلب پر تازہ چڑھائی کے بعد سے پانچ لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہوگئے ہیں اور وہ ترکی کے سرحدی علاقے کا رُخ کررہے ہیں لیکن ترکی نے اپنی سرحد بند کر رکھی ہے۔

ترکی اس وقت چھتیس لاکھ سے زیادہ شامی مہاجرین کی میزبانی کررہا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ ادلب سے بے گھر ہونے والے مزید شامی مہاجرین کا بوجھ نہیں سہار سکتا۔اس نے شام سے ادلب میں اس کی باغی گروپوں کے خلاف جاری فوجی کارروائی اس ماہ کے آخر تک روکنے کا مطالبہ کیا ہے اور دھمکی دی ہے کہ اگر اس نے ایسا نہیں کیا ہے تو پھر وہ ترکی کی جوابی کارروائی کے لیے تیار رہے۔