.

سعودی عرب : العلا کا صحراء فن پاروں کی نمائش میں تبدیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں العلا کے علاقے میں جاری "ڈیزرٹ ایکس" نمائش اس تاریخی علاقے کی بھرپور تہذیب کے بارے میں تفصیلات کی ترجمانی کر رہی ہے۔

نمائش میں سعودی عرب اور پڑوسی ممالک کے فن کاروں کے علاوہ کئی وہ فن کار بھی شامل ہیں جو اس سے قبل کیلیفورنیا میں منعقد ہونے والی "ڈیزرٹ" نمائش میں شرکت کر چکے ہیں۔

سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی SPA کے مطابق العلا میں "ڈیزرٹ ایکس" نمائش ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب مملکت میں ثقافتی شعبوں کی سپورٹ پر فعال طریقے سے کام کیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے بین الاقوامی فورموں پر مملکت کی ثقافتی نمائندگی کو اجاگر کیا جا رہا ہے۔

العلا ضلع کی رائل اتھارٹی نمائش کے ضمن میں ایک پرکشش قدرتی فن پارے کو پیش کرنے پر کام کر رہی ہے جو ثقافتی اور فنی ذرخیزی کے ذریعے دنیا کے دل موہ لے۔

گذشتہ پورے سال العلا کے علاقے نے ان فن کاروں کا استقبال کیا جنہوں نے یہاں کے پر کشش اور دل فریب تاریخی اور قدرتی مناظر کو تہذیب اور سماجی ترقی کے امتزاج کے ساتھ پیش کیا۔ ڈیزرٹ ایکس نمائش نے آنے والوں کو صحرا کا ایک نیا مفہوم اور تصور دیا ہے۔ ساتھ ہی انہیں مجبور کر دیا کہ وہ ماضی میں قدیم راستے سے گزرنے والے قافلوں، ثقافتی ورثے اور آج نظر آنے والی عمرانی نشاطِ ثانیہ کے حال پر غور کریں۔

العلا کی تاریخ ہزاروں سال کے دوران یکے بعد دیگرے آنے والی تہذیبوں پر مشتمل ہے۔ یہ تین براعظموں کے سنگم پر ہونے کے سبب ثقافتی تبادلے کا مرکز رہا۔ اب "صحراء العلا" نمائش نے اس ثقافتی ورثے کو ایک نئے انداز سے پیش کیا ہے۔ یہ دنیا کو العلا کے نئے مستقبل کے حوالے سے نوید سنا رہی ہے۔ واضح رہے کہ ڈیزرٹ ایکس حالیہ دور میں العلا میں منعقد ہونے والی پہلی نمائش ہے۔

العلا رائل اتھارٹی اس علاقے میں سرگرمیوں کو زندہ کرنے اور علاقے کی تفصیلات کو طویل عرصے کے لیے محفوظ بنانے کا عزم رکھتی ہے۔ اس سلسلے میں مقامی آبادی کے تعاون سے کام جاری ہے۔

نمائش میں شریک متعدد فن کاروں نے اس سرگرمی کے حوالے سے اپنے نقطہ ہائے نظر کا اظہار کیا۔ انہوں نے نمائش کو ثقافتی اور تاریخی معجزہ قرار دیا۔

اس اوپن ایئر آرٹ میوزیم میں لیتا البکیرکی فن کارہ نے شفاف سلیبوں پر ایک ہزار سورج نصب کیے ہیں۔

اسی طرح راشد الشعشاعی نے ایک مختصر گزرگاہ بنا کر ماضی میں یہاں سے گزرنے والے تجارتی قافلوں کی کہانی بیان کی ہے۔

لبنان سے تعلق رکھنے والے ریان ثابت نے سلسلہ وار چالیس "فولادی حلقوں" کے ذریعے جزیرہ عرب میں تیل کی پائپ لائنوں کی علامتی تصویر پیش کی۔

سعودی عرب کی زہرہ الغامدی نے کھجور کے ہزاروں ڈبوں کے ذریعے "ماضی کی ایک چمک" پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کا مقصد العلا کی زرعی ثروت کو نمایاں اور اجاگر کرنا ہے۔

متحدہ عرب امارات کے محمد احمد ابراہیم نے "گرتے ہوئے پتھروں کے باغ" کے ذریعے صحرائی ماحولیاتی نظام کی نمائندگی کی۔ یہ رنگوں سے سیراب چٹانوں سے مشابہت کا حامل ہے۔

لبنان ککے ندیم کرم نے عرب صحراء میں پائے جانے والے نباتات اور حیوانات کو پیش کیا۔

سعودی عرب کے ناصر السالم نے العلا کے قدرتی داخلی اور خارجی مناظر کو ترتیب وار اس انداز سے پیش کیا کہ اس نے تمام ثقافتوں اور تہذیبوں کو جوڑ دیا۔

امریکا سے تعلق رکھنے والی خاتون جزیلا کولن نے العلا کی تہذیب کے ساتھ نتھی قدیم مقدس علامتوں کو ثقافتی رنگ میں پیش کیا ہے۔ اسی طرح انہوں نے اعلی ٹکنالوجی کی روشنی میں العلا کے مستقبل کے بارے میں ایک مطالعاتی جائزہ بھی تیار کیا۔

مصر کی شیریں جرجس نے دور حاضر کے افکار کی تشکیل میں ثقافتی یادداشت کے کردار کو مجسم پیش کیا ہے۔