.

قاسم سُلیمانی کی ہلاکت کے بعد حماس ایران کی مدد نہ کرے: مصر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے ایک سیکیورٹی وفد نے فلسطینی تنظیم اسلامی تحریک مزاحمت 'حماس' کے ایران اور حزب اللہ کے ساتھ تعلقات پر اپنےتحفظات کا اظہار کرتے ہوئے حماس پر زور دیا ہے کہ وہ قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد ایران سے اپنے تعلقات محدود کرے۔

العربیہ چینل کے ذرائع کے مطابق غزہ کی پٹی کے دورے آیا مصر کا اعلیٰ اختیاراتی سیکیورٹی وفد کل سوموار کو حماس کے ساتھ مذاکرات کے بعد اسرائیل روانہ ہوگیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مصری وفد نے غزہ میں حماس کی قیادت سے جنگ بندی پر قائم رہنے سمیت دیگر امور پربات چیت کی۔ یہ وفد آج اسرائیلی حکام کے ساتھ غزہ میں غیر مشروط جنگ بندی پر قائم رہنے اور غزہ کو انسانی امداد کی فراہمی یقینی بنانے پر زور دے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مصر نے حماس پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ سے اسرائیل پر راکٹ باری کے ذریعے کشیدگی میں اضافہ نہ کرے بلکہ جنگ بندی کی شرائط کی پابندی کرے۔ ا س کے ساتھ مصری وفد نے حماس کے ایران اور حزب اللہ کے ساتھ تعلقات پر بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

مصری حکام نے حماس پر زور دیا کہ وہ ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈر قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد ایران کے ساتھ اپنے روابط محدود کرے اور قاسم سلیمانی کے قتل کے رد عمل میں ایران کی مدد نہ کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ خطے کی دوسری ملیشیائوں کے ساتھ بھی اپنے تعلقات پر نظر ثانی کرے۔

ادھر ایک دوسرے سیاق میں العربیہ چینل کے نامہ نگارنے بتایا کہ فلسطینی اتھارٹی نے سلامتی کونسل میں پیش کی جانے والی قرارداد واپس نہیں لی بلکہ اس پر رائے شماری موخر کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔

نامہ نگارنے فلسطینی اتھارٹی کے مقرب ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ برطانیہ نے قرارداد کے مسودے میں اہم تبدیلیاں کی ہیں۔ اس حوالے سے مزید تبدیلیاں بھی کی جاسکتی ہیں۔ نامہ نگار کے مطابق قرارداد پر رائے شماری موخر کرانے یا قرارداد واپس لینے کے لیے فلسطینی اتھارٹی پر امریکا کی طرف سے دبائو بھی ڈالا گیا تھا۔