.

لبنان : پارلیمان میں نئی کابینہ کی منظوری، جھڑپوں میں 300 افراد زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کی پارلیمان نے وزیراعظم حسان دیاب کے زیر قیادت نئی کابینہ کی منظوری دے دی ہے جبکہ دارالحکومت بیروت میں مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں کم سے کم تین سو افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ان میں چالیس کو اسپتال داخل کیا گیا ہے۔

لبنانی پارلیمان کے اسپیکر نبیہ بری نے نئی کابینہ کو اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے پر مبارک باد دی ہے۔ پارلیمان کا اجلاس آٹھ گھنٹے تک جاری رہا ہے۔ ایوان میں موجود 84 میں سے 63 ارکان نے نئی کابینہ کے حق میں ووٹ دیا ہے۔

وزیراعظم حسان دیاب نے بیس ارکان پر مشتمل کابینہ کی فہرست مںظوری کے لیے پارلیمان میں پیش کی تھی۔ نئی کابینہ میں چھے خواتین وزراء سمیت بیشتر نئے چہرے شامل ہیں اور بعض ٹیکنوکریٹ ہیں۔

پارلیمان میں نئی کابینہ کے حق میں اعتماد کے ووٹ کے وقت بیروت میں حکمران اشرافیہ کی بدعنوانیوں اور ملکی معیشت کی زبوں حالی کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین نے اپنا احتجاج جاری رکھا تھا اور انھوں نے پارلیمان کی عمارت کی جانب جانے کی کوشش کی تھی۔

حکومت نے اس طرف جانے والے راستوں کو کنکریٹ کی رکاوٹیں کھڑی کرکے بند کردیا تھا مگر اس کے باوجود مظاہرین نے ان رکاٹوں کو عبور کرکے آگے بڑھنے کی کوشش کی تو ان کی سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں ہوئی ہیں۔

مظاہرین نے سکیورٹی فورسز کی جانب پتھراؤ کیا جبکہ سکیورٹی اہلکاروں نے انھیں وہاں سے منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے پھینکے ہیں اور پانی توپ کا استعمال کیا ہے۔مظاہرین اسمبلی کے ارکان اور سرکاری حکام کو پارلیمان کی عمارت کے اندر جانے سے روک رہے تھے تاکہ وہ نامزد وزیراعظم حسان دیاب کی مجوزہ نئی کابینہ کو اعتماد کا ووٹ نہ دے سکیں۔

حکومت نے مظاہرین کو روکنے کے لیے بیروت کے وسطی حصے میں جگہ جگہ کنکریٹ کی رکاوٹیں کھڑی کر رکھی تھیں۔ان کی وجہ سے بہت ارکان اجلاس میں تاخیر سے پہنچے تھے۔مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے دوران میں لبنانی فوج نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچانے سے مظاہرین کے مطالبات ہی کو نقصان پہنچے گا۔

لبنان میں اکتوبر سے سیاسی اشرافیہ کے خلاف پُرامن احتجاجی تحریک جاری ہے۔ مظاہرین آزاد ماہرین اور ٹیکنوکریٹس پر مشتمل نئی حکومت کی تشکیل کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ روایتی سیاست دانوں کو اب اقتدار سے دور ہی رکھا جائے۔