.

موت کا فرشتہ قاسم سلیمانی کے بجائے میری جان لے لیتا:حسن نصراللہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے لیڈر ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن پرجمعرات کو نمودار ہوئے ہیں اور انھوں نے اپنے سابق پشتیبان میجر جنرل قاسم سلیمانی سے اپنی بے پایاں محبت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ اللہ ان کے بجائے میری جان لے لیتا۔‘‘

ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی تین جنوری کو عراق کے دارالحکومت بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے نزدیک امریکا کے ایک ڈرون حملے میں ہلاک ہوگئے تھے۔ان کی اس طرح موت حزب اللہ سمیت خطے میں ایران کی آلہ کار شیعہ ملیشیاؤں کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوئی ہے۔ایران نے ان کی ہلاکت کے ردعمل میں عراق میں امریکا کے زیرانتظام دو فوجی اڈوں پر میزائل حملے کیے تھے۔

حسن نصراللہ نے کہا کہ انھوں نے حال ہی میں نماز کے بعد جگراتے میں یہ خواب دیکھا کہ اگر اللہ انھیں کوئی پیش کش کرتے تو وہ کیا کرتے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ اللہ سے یہ کہتے کہ قاسم سلیمانی کے بجائے ان کی جان لے لی جائے۔

حسن نصراللہ نے کہا’’اس مفروضہ کی روشنی میں ،میں نے سوچا کہ میں موت کے فرشتے سے کیا کہتا؟ میں اس سے کسی شک کے بغیر یہ کہتا کہ میری جان لے لیں اور کمانڈر قاسم سلیمانی کو چھوڑ دیں۔‘‘

واضح رہے کہ لبنان میں حزب اللہ ایک طاقتور سیاسی اور عسکری قوت ہے۔ دارالحکومت بیروت کے بیشتر جنوبی حصوں اور جنوبی لبنان میں اس کا کنٹرول ہے۔یہ ایران کی قریبی اتحادی ہے اور اس کے جنگجو عراق اور شام میں میجر جنرل قاسم سلیمانی کے زیر کمان لڑتے رہے ہیں اور اب بھی لڑرہے ہیں۔

ایرانی کمانڈر کی امریکا کے ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد حسن نصراللہ نے ’’مزاحمت‘‘ کے تمام جنگجوؤں پر زوردیا تھا کہ وہ دنیا بھر میں ان کی ہلاکت کا انتقام لیں۔