.

سعودی عرب میں "ریڈیو" کا آغاز کب اور کیسے ہوا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شاہ عبدالعزیز آل سعود رحمہ اللہ نے 1932 میں مملکت سعودی عرب قائم کی تو انہیں اندرون مملکت معلومات اور بیرونی خبروں سے آگاہ رہنے کی زیادہ ضرورت محسوس ہوئی۔ اس مقصد کے لیے ریڈیو کا ایک نجی نظام قائم کیا گیا جو مملکت کے بانی کو مطلوبہ معلومات اور خبروں کی فراہمی کا کام انجام دینے لگا۔

کنگ سعود یونیورسٹی میں شعبہ ذرائع ابلاغ کے لیکچرار نائف الوعیل کی تحقیق کے مطابق ریڈیو نشریات کو عوام تک پہنچانے کا فیصلہ 1949 میں ہوا۔ اس سے قبل مکہ مکرمہ ریڈیو صرف حجاز میں سنا جاتا تھا۔

سعودی معاشرے میں ریڈیو کی اہمیت کے پیش نظر شاہ سعود بن عبدالعزیز نے (جو اُس وقت مملکت کے ولی عہد تھے) اپنے والد کے سامنے سعودی عرب میں ایک ریڈیو اسٹیشن قائم کرنے کا خیال پیش کیا۔ شاہ عبدالعزیز نے اس پیش کش پر موافقت کا اظہار کرتے ہوئے 1949 میں پہلے قومی ریڈیو اسٹیشن کے قیام کے حوالے سے شاہی فرمان جاری کر دیا۔

اسی برس سعودی عرب نے امریکی کمپنی "انٹرنشینل الکٹرونک کارپوریشن" کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے۔ یہ دستخط قاہرہ میں سعودی سفارت خانے کی عمارت میں ہوئے۔

معاہدے کے متن میں ریڈیو نظام کی تنصیب کے علاوہ اس کو چلانے اور اس کی دیکھ بھال کی ذمے داریاں بھی شامل تھیں۔ یہ منصوبہ 16 ریڈیو ٹرانسمیٹروں پر مشتمل تھا۔ ان میں 2 میڈیم ویو، 3 ریگولر ویو اور 11 شارٹ ویو تھے۔ یہ نشریات سعودی عرب کے علاوہ پڑوس میں یمن، مصر، شام، لبنان اور عراق تک سنی جانے لگیں۔

منصوبے کے تحت جدہ شہر میں مرکزی کنٹرول اینڈ آپریشن روم قائم کیا گیا۔ اس کے علاوہ مکہ مکرمہ میں بھی تمام ساز و سامان سے آراستہ ایک ریڈیو اسٹوڈیو بنایا گیا۔ اس کا مقصد حج سیزن میں مقامات مقدسہ سے براہ راست پروگرام نشر کرنا تھا۔

سال 1949 میں حج سیزن کے دوران وقوفِ عرفہ کے روز جدہ ریڈیو سے سرکاری طور پر پہلی مرتبہ عوام کے لیے باقاعدہ نشریات کا آغاز ہوا۔

اس ریڈیو اسٹیشن کی پاور 3 کلو واٹ سے زیادہ نہ تھی۔ ابتدا میں اس کے ذریعے سرکاری خبروں اور مذہبی پروگراموں کے علاوہ بعض ادبی پروڈکشنز نشر کیے جانے پر اکتفا کیا گیا۔ اس عرصے میں نشریات کا یومیہ دورانیہ تین گھنٹوں سے زیادہ نہ تھا۔

سال 1955 میں مملکت کے دوسرے فرماں روا شاہ سعود بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ایک شاہی فرمان جاری کیا۔ اس فرمان کے ذریعے سعودی ریڈیو کو ایک خود مختار اتھارٹی بنا دیا گیا۔

سعودی ریڈیو کے قیام کے کئی برس بعد اس کی بہتری کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات سامنے آئے۔ بالخصوص کمیونی کیشن کی وزارت کی جانب سے ٹیلی فون اینڈ ٹیلی گراف سسٹم کو ترقی دینے کے لیے کئی منصوبوں پر عمل درامد کیا گیا۔ سعودی عرب نے جدہ میں 50 ہزار واٹ پاور کے اسٹیشن کے لیے جرمنی کی تین کمپنیوں کے ساتھ سمجھوتے کیے۔

سال 1964 میں جدہ کے جنوب مشرق میں ایک بہت بڑا ٹرانسمیشن کمپلیکس قائم کیا گیا۔ اس میں دو شارٹ ویو ٹرانسمیٹر نصب کیے گئے جن میں سے ہر ایک کی گنجائش 50 ہزار واٹ تھی۔ اسی طرح میڈیم ویو کے دو ٹرانسمیٹر بنائے گئے جن میں ایک کی گنجائش 50 ہزار ارو دوسرے کی 1 لاکھ واٹ تھی۔ ریڈیو ٹرانسمیشن کے میدان میں یہ سعودی عرب کی بڑی پیش رفت تھی۔

سعودی ریڈیو کے قیام کے بعد 16 برس تک نشریات کا سلسلہ صرف جدہ کے اسٹوڈیوز سے جاری رہا۔ جنوری 1965 میں ریاض میں پہلے ریڈیو اسٹیشن نے کام شروع کیا۔ یہاں میڈیم ویو کے دو ٹرانسمیٹر نصب کیے گئے جن میں سے ہر ایک کی گنجائش 6 لاکھ واٹ تھی۔ اس نئے اسٹیشن میں روزانہ 16 گھنٹے نشریات کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔

اس کے ایک برس بعد دمّام شہر میں تیسرا ریڈیو اسٹیشن قائم کیا گیا۔ یہاں لگائے گئے ٹرانسمیٹر کی پاور 1 لاکھ واٹ تھی۔ یہ اسٹیشن پورے خلیج عربی کے علاقے کو کور کرتا تھا۔

سال 1979 میں سعودی ریڈیو کی نشریات کا یومیہ دورانیہ 20 گھنٹے ہو گیا۔

آخرکار سعودی ریڈیو کی نشریات میڈیم اور شارٹ ویو کے ذریعے مملکت کے تمام علاقوں، پڑوسی عرب ممالک، یورپ، امریکا اور شمالی افریقا تک پہنچ گئیں۔ علاوہ ازیں سعودی ریڈیو "FM" کے ذریعے بھی اپنے پروگرام نشر کرتا ہے۔ مصنوعی سیاروں کے سبب انٹرنیٹ کے ذریعے بھی ان نشریات کو سنا جا سکتا ہے۔