.

مصر کی اخوانی حکومت نے ایران کے ساتھ تعلقات کیسے استوار کیے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی پارلیمنٹ کے معاون خصوصی برائے خارجہ امور کے چیئرمین حسین عبداللھیان نے رواں ہفتے کے اوائل میں انکشاف کیا کہ مصر کے سابق صدر محمد مرسی کے دور میں مصر اور تہران کے درمیان تعلقات کے ایک نئے باب کا آغاز کیا اور انہوں‌نے اس مقصد کے لیے متعدد وفود تہران بھیجے تھے۔

سابق مصری اخوانی صدر محمد مرسی کی طرف سے ایران کے ساتھ تال میل بڑھانے سے متعلق ایرانی عہدیدار کا بیان اپنی نوعیت کا پہلا بیان نہیں ہے۔ مصر میں اخوان المسلمون کی قیادت میں قائم ہونے والی حکومت کے دور میں ایران نے عرب ممالک بالخصوص مصر میں اپنے اثرو نفوذ میں اضافے کے لیے سرتوڑ کوششیں شروع کیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ایران اور مصر کے سابق صدر محمد مرسی کے دور حکومت میں ہونے والے رابطوں اور وفود کی آمد ورفت پر روشنی ڈالی ہے۔ رپورٹ کے مطابق تہران اور قاہرہ کے درمیان اخوان حکومت کے دور میں پہلا رابطہ اگست 2012ء میں ہوا۔ دونوں ملکوں‌کے درمیان قربت پیدا کرنے کے لیے اخوان نے خیر الشاطر کی سربراہی میں عوامی وفود تہران بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ مصر سے پہلا اخوانی وفد 51 افراد پر مشتمل تھا جس نے ایران کے دورے کے دوران ایرانی قیادت سے ملاقات کی۔ اس وفد کی قیادت اخوان کی حامی لیبر پارٹی کے سابق رہ نما مجد احمد حسین نےکی۔ اس کے علاوہ اس وفد میں ایرانی حمایت یافتہ استقلال پارٹی کے رہ نما مجدی قرقر، الوسط پارٹی کے لیڈر اور سابق رکن پالیمنٹ عصام سلطان بھی شامل تھے۔

ایک دوسرے ذریعے نے العربیہ ڈاٹ‌نیٹ کو بتایا کہ مصر سے ایران جانے والا دوسرا وفد 65 افراد پر مشتمل تھا۔ یہ وفد جون 2012ء کوتہران کے لیے روانہ ہوا اور اس کی قیادت بھی اخوانی لیڈروں نے کی تھی۔ جون 2012ء کے دوران ایران کے لیے وفد کی روانگی کے بعد مصر میں ہونے والے انتخابات میں محمد مرسی ملک کے صدر منتخب ہوگئے تھے۔ دوسرے مصری وفد نے بھی اپنے دورہ ایران کے دوران تہران میں ایران کی شیعہ قیادت اور سیاسی لیڈروں سے ملاقاتیں کیں۔

ایرانی خبر رساں اداروں نے اس وقت مصری وفود کے تہران دوروں کی تفصیلات بیان کیں۔ خبر رساں‌ادارے نے قاہرہ میں ایرانی سفارتی مشن کے سربراہ مجبتیٰ امانی کا ایک بیان نقل کیا جس میں انہوں‌نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ وفود دونوں ملکوں‌کی عوام کے درمیان رابطوں کے فروغ کےلیے بھیجے جا رہےہیں۔ مصری قوم کی یہ گہری خواہش ہے کہ تہران کے ساتھ رابطے مربوط بنائے جائیں۔ ایران میں جنوری 2011ء کے دوران مصری انقلاب کے دوران مارے جانے والے شہریوں کے اقارب کا استقبال کیا گیا۔ انقلاب کے مقتولین کے بعض دوسرے اقارب جلد ہی قاہرہ کا دورہ کریں گے۔

محمود احمدی نژاد سے ملاقات

جون 2011ء یعنی 25 جنوری 2011ء کے انقلاب کے بعد مصر کا ایک عوامی وفد تہران پہنچا۔ یہ وفد چار دن ایران میں قیام پذیر رہا۔ اس دوران مصری وفد نے ایرانی صدر محمود احمدی نژاد اور دیگر سینیر ایرانی حکومی عہدیداروں سے ملاقاتیں کیں۔ ایرانی حکومت کی طرف سے مصر میں اخوان المسلمون کی مکمل حمایت کے ساتھ دونوں‌ملکوں کے درمیان سنہ 1979ء کے انقلاب کے بعد پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کو دور کرنے پر زور دیا گیا۔

مصری وفد کے سربراہ ڈاکٹر جمال زھران نے بتایا کہ ایرانی صدر محمود احمدی نژادی نے کہا کہ تہران اور قاہرہ کے درمیان تعلقات کے فروغ میں کوئی رکاوٹ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم ایران میں انور سادات کے قاتل خالد اسلام بولی کے قاتل کے نام سے موسوم شاہراہ کو 'شہداء 25 جنوری' کے نام سے موسوم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس کے علاوہ ایران مصر ایران کی ہرممکن مالی مدد کرے گا تاکہ انقلاب کے بعد مصر کی نئی حکومت کو مالی طورپر مستحکم کیا جاسکے۔

لبنانی ڈاکٹر کی قیادت میں وفد

مصر میں ایرانی امور کے محقق علاء السعید نے پچیس جنوری کے انقلاب کے بعد پیدا ہونے والے حالات اور ایران مصر بڑھتی قربتوں پر العربیہ ڈاٹ‌نیٹ کو بتایا کہ تہران اور قاہرہ کے درمیان دوروں کے لیے اخوان اور ایران دونوں نے مختلف اداروں اور شخصیات کو استعمال کیا۔ دونوں طرف سے وفود کو عوامی وفود کا نام دیا گیا اور یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی کہ ان وفود کے ذریعے ایرانی اور مصری اقوام کےدرمیان قربت پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اسی ضمن میں ایران جانے والے ایک وفد کی قیادت لبنان کے ایک ڈینٹل ڈاکٹر یحییٰ غدار کو سونپی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ تہران کے دورے سے واپسی کے بعد اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ مصر کی عسکری کونسل کے سربراہ جنرل محمد حسین طنطاوی ایران کا دورہ کریں‌گے۔

علاء سعید کا کہنا ہے کہ دونوں عوامی دوروں کے دوران ایرانی حکومت نے مصری جامعات کو فنڈز فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ مصری جامعات میں فارسی زبان وادب کی ترویج پر بھی زور دیا گیا۔

اسی ضمن میں لبنانی حکومت کی طرف سے ڈاکٹر یحییٰ غدار کو مصری وفد کی قیادت میں ایران بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس اقدام کا مقصد عرب ممالک میںایران کے اثرو نفوذ کو مزید بڑھانا تھا۔