.

ترکی پر النصرہ فرنٹ کو اسلحہ اور فوجی وردیاں فراہم کر نے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کے ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ ترکی کی طرف سے شام ادلب کے علاقے میں لڑنے والے گروپ 'تحریر الشام' تنظیم کو اسلحہ اور فوجی یونی فارم فراہم کیے گئے ہیں۔

ٌخیال رہےکہ تحریر شام محاذ نام کی تبدیلی سے قبل شام میں القاعدہ کی ایک ذیلی شاخ تھی جسے 'النصرہ فرنٹ' کے نام سے جانا جاتا تھا۔

'رشیا ٹوڈے' ویب سائٹ نے عسکری سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ترکی نے شمالی شام کے علاقے ادلب میں اپنی عسکری کمک اور اسلحہ کی اضافی کھیپ پہنچائی ہے۔ ترکی کی طرف سے یہ اسلحہ القاعدہ کی سابقہ ذیلی تنظیم النصرہ کو فراہم کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اس گروپ کو فوجی یونی فارم بھی مہیا کیے گئے ہیں۔

ویب سائٹ کے مطابق ترکی نے حال ہی میں ادلب میں 80 ٹینک، 200 بکتر بند گاڑیاں اور 80 توپیں پہنچائی ہیں۔ اس اسلحہ کا ایک بڑا حصہ النصرہ فرنٹ کو فراہم کیا گیا ہے۔

ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق شام میں جنگجوئوں‌نے ترکی سے امریکی ساختہ طیارہ شکن اسلحہ بھی حاصل کیا ہے۔ یہ اسلحہ ایک ایسے وقت میں النصرہ کو فراہم کیا کیا گیا ہے جب دوسری طرف رواں ہفتے اپوزیشن جنگجوئوں‌نے شامی فوج کے دو ہیلی کاپٹر مار گرائے تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ترکی کی طرف سے فوجی وردی فراہم کیے جانے کے بعد ادلب میں کشیدگی میں اضافے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریر شام محاذ اور دوسرے گروپ ادلب میں ترکی کے پرچم تلے اسد رجیم کے خلاف لڑائی میں‌شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق شامی فوج نے ادلب میں ترکی کی طرف سے جنگجوئوں کو دیئے گئے 20 ٹینک تباہ کردیے ہیں۔