.

جازان کا تاریخی قلعہ جو آپ کو صدیوں‌پیچھے لےجائےگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی سرزمین پران گنت تاریخی مقامات میں کئی ایسے تاریخی قلعے آج بھی موجود ہیں جو مملکت کی عظمت رفتہ کی یادگار کہلاتے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ‌کے مطابق مملکت کے جنوب مغرب میں واقع ضمد گورنری میں ایک قلعہ 1256ھ کو تعمیر کیا گیا۔ یہ قلعہ سعودی مملکت کے دور میں تعمیرہونےو الا دوسرا قلعہ ہے۔ قریبا دو صدیاں‌بیت جانے کے باوجود اس قلعے کی شان وشوکت اس کے درو دیوار سے آج بھی جھلک رہی ہے۔ پتھروں سے تعمیر کردہ اس کی دیواریں اس کےمضبوط فن تعمیرکی آج بھی گواہی دیتی ہیں۔ وادی ضمد کے کنارے پر واقع یہ قلعہ تہامہ کی وادیوں کا ایک مشہور قلعہ ہے۔

یہ قلعہ مملکت کی ایک ڈھال تھی جسے اس دور میں 'الحمیٰ' کا نام دیا گیا۔ اسے شریف مکہ کی اولاد میں شامل الحسین بن علی آل خیرات نامی ایک گورنر نے تعمیر کرایا۔ اس قلعے کی تعمیر کا مقصد الحسین بن علی کی املاک، زرعی فارموں اور آس پاس کے علاوں کی حفاظت کو یقینی بنانا تھا۔ جس دور میں یہ قلعہ تعمیر کیا گیا اس وقت یہ علاقہ شورش اور جنگوں کی زد میں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اسے 'الحمیٰ' یعنی ڈھال کا نام دیا گیا۔

العربیہ ڈاٹ‌ نیٹ نے جازان کے اس تاریخی قلعے پر روشنی ڈالی ہے۔ قلعے کے بانی کے ایک پوتے حسین زید المدیر نے بتایا الحمیٰ قلعے کے بارے میں وہ اپنے آبائو اجداد سے سنتے آئے ہیں۔ المدیر کا کہنا ہے کہ جب یہ قلعہ بنایا گیا وہ جنگ کازمانہ تھا، میرے داد کے دور دور تک پھیلے سرسبزکھیت تھے۔ ان کی زمینوں پر بھی حملے ہوتے رہتے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنی زمیوں کے تحفظ کے لیے قلعہ تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا۔ قعلے میں بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی ذخیرہ کیا گیا۔ یہ واحد عمارت تھی جس کے تمام اطراف میں کھیت تھے۔

ایک سوال کے جواب میں المدیر نے بتایا کہ قلعہ پانچ سال قبل جازان میں محکمہ سیاحت کے حکام کے حوالے کیا گیا۔ قدیم ہونے کی وجہ سے اس کی دیواریں کم زور ہورہی ہیں جس کی از نو مرمت کی ضرورت ہے۔